تہران کی سفارت کاری نے امریکہ میں ایران مخالف اتحاد توڑ دیا: ایواشف
https://urdu.sahartv.ir/news/یورپ-i197969-تہران_کی_سفارت_کاری_نے_امریکہ_میں_ایران_مخالف_اتحاد_توڑ_دیا_ایواشف
روس کے جیو پولیٹیکل مسائل کے تحقیقاتی مرکز کے سربراہ نے کہا ہے کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان اور اس کے بارے میں امریکہ میں ہونے والی بحث ایرانی سفارت کاری کی کامیابی کا حقیقی ثبوت ہے کہ جس نے امریکی سیاستدانوں کے ایران مخالف اتحاد کو ختم کر دیا-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۲, ۲۰۱۵ ۱۲:۳۸ Asia/Tehran
  • تہران کی سفارت کاری نے امریکہ میں ایران مخالف اتحاد توڑ دیا: ایواشف
    تہران کی سفارت کاری نے امریکہ میں ایران مخالف اتحاد توڑ دیا: ایواشف

روس کے جیو پولیٹیکل مسائل کے تحقیقاتی مرکز کے سربراہ نے کہا ہے کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان اور اس کے بارے میں امریکہ میں ہونے والی بحث ایرانی سفارت کاری کی کامیابی کا حقیقی ثبوت ہے کہ جس نے امریکی سیاستدانوں کے ایران مخالف اتحاد کو ختم کر دیا-

موصولہ رپورٹ کے مطابق روسی جنرل ایواشف نے جو کئی برس تک روسی وزارت دفاع میں بین الاقوامی تعاون کے ادارے کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور جیو پولیٹیکل امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، ارنا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں جامع سمجھوتے کو اس سلسلے میں برسوں سے ہونے والے مذاکرات کا اہم نتیجہ قرار دیا-
انھوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران، ایرانی سفارت کاری نے ایٹمی مذاکرات کے ذریعے ایران کے خلاف امریکی سیاستدانوں کا قدیمی اور پائیدار اتحاد ختم کر دیا، کہا کہ تہران نے مذاکرات کے مشکل دور میں این پی ٹی کے فعال رکن کی حیثیت سے اپنے ایٹمی حقوق کے دفاع اور حفاظت کے لئے بھرپور کوشش کی اور ایرانی مذاکراتی ٹیم نے اپنے اقدامات اور اہداف کو اسی پر مرکوز رکھا-

روس کے جیو پولیٹیکل مسائل کے تحقیقاتی مرکز کے سربراہ نے امریکی سینیٹ میں جامع مشترکہ ایکشن پلان کو مسترد کرنے کی قرارداد منظور کرانے میں ریپبلکنز کی ناکامی کو بہت اہم قرار دیا اور کہا کہ واضح سی بات ہے کہ ریپبلکنز، باراک اوباما خاص طور پر امریکہ میں صدارتی انتخابات کی مہم نزدیک ہونے کے موقع پر ڈیموکریٹک پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور جامع مشترکہ ایکشن پلان کو مسترد کرنے کی کوشش بھی اسی غرض سے انجام پا رہی ہے- انھوں نے کہا کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان کے حتمی شکل اختیار کر لینے کے بعد ایران کا ایٹمی ڈھانچہ محفوظ ہو جائے گا اور ایران ، پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کی حامل طاقت کی حیثیت سے پہچانا جائے گا-