یمن کے خلاف فوجی آپریشن کی شکست اور خطے کے بارے میں سعودی عرب کی پالیسیوں کی ناکامییوں کا اعتراف
یمن کے خلاف جنگ میں ناکامی کی بنیادی وجہ اتحادی ممالک کی طرف سے اپنی ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی ہے اورریاض کواس کی ہرگز توقع نہیں تھی
سعودی عرب کے ولی عہد نے یمن کے خلاف فوجی آپریشن کی شکست اور خطے کے بارے میں سعودی عرب کی پالیسیوں کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے ۔
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن نایف نےجدہ میں منعقدہ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کےاعلی حکام کے آخری مشاورتی اجلاس کے موقع پر کہا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ میں ناکامی کی بنیادی وجہ اتحادی ممالک کی طرف سے اپنی ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی ہے اورریاض کواس کی ہرگز توقع نہیں تھی ۔
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن نایف نے شام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ ترکی اور امریکہ کی مدد سےبشار اسد کی حکومت سرنگوں ہو جائے گی اور ریاض نے ترکی اور امریکی وعدوں پر اعتماد کیا لیکن یہ وعدے پورے نہ ہوئے۔
محمد بن نایف کا کہنا تھا کہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ عرب دنیا گذشتہ دوسالوں سے مختلف بحرانوں اور جنگ و خونریزی کا شکار ہے ، ان بحرانوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک اپنی پالیسیوں اور اندازوں پر نظر ثانی کریں۔
سعودی ولی عہد کے یہ بیانات یمن کے خلاف جنگ کے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے اور سعودی شاہی خاندان میں بڑھتے ہوئے اختلافات کو مزيد واضح کرتے ہیں۔ محمد بن نایف کے یہ بیانات یمن کے خلاف سعودی عرب کے اس فوجی آپریشن کی مکمل شکست کا اعتراف ہے جس کو سعودی عرب کے ناتجربہ کار نوجوان وزیردفاع محمد بن سلمان کے حکم پر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ کو شروع کیا گیا تھا۔
سلمان بن عبد العزیز کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے فرزند محمد بن سلمان نے سعودی عرب کےحکومتی نظام کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔ محمد بن سلمان کو شروع ہی سے محمد بن نایف کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اسی وقت سے محمد بن نایف کو اپنے راستے سے ہٹانے کے منصوبے کےبارے میں سوچ بچار شروع کردی تھی۔ محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد بنانے کی بڑی وجہ بھی یہی تھی تاکہ وہ اپنے والد کی موت کے بعد محمد بن نایف کو ولی عہدی سے بر طرف کرکے تخت شاہی پر خود بیٹھ جائے۔
محمد بن سلمان جب سعودی عرب کے دفاعی نظام میں سب سے اہم عہدے پر پہنچے تو اس نے سعودی عرب کو جنگ پسندانہ پالیسیوں کی راہ پر ڈال دیا ۔ سعودی عرب نے جب یمن پر حملے کے وقت مختلف ممالک کو اپنا اتحادی بنانا شروع کیا تو اسے مختلف طرح کے رویوں کا سامنا کرنا پڑا ، یہی اختلافات اور تضآدات اس بات کا باعث بنے کہ امریکہ اور برطانیہ کی اسلحہ جاتی مدد کے باوجود سعودی عرب کو یمن کے میدان جنگ میں ناکامیوں کامنھ دیکھنا پڑا ۔
یمن کے امن سے متعلق مذاکرات میں ریاض کے وفد کی شمولیت محمد بن سلمان کی فوجی حکمت عملی کی واضح شکست ہے ۔ یہ وہ موضوع ہے جس کی یمن پر حملے سے پہلے محمد بن سلمان نے کئی بار سختی سے مخالفت کی تھی۔
سعودی عرب کے اعلی حکام میں یمن پر حملے کے فیصلے پر عدم اتفاق ، واضح جنگی حکمت عملی کی عدم موجودگی ،فوجی تربیت میں نمایاں کمزوریاں، جنگ کے لئے عدم آمادگی، اتحادیوں کے درمیان مشترکہ جنگی سرگرمیوں میں عدم ہم آہنگی اور اتحادی ممالک کی فوجی صلاحیتوں اور تربیت کی سطح میں عدم مساوات اس فوجی اتحاد کی کمزوری اور ناتوانی کا باعث بنا۔
جس اتحاد کی تشکیل میں اتنی کمزوریاں ہوں اس کا نتیجہ شکست کے علاوہ کیا برآمد ہوسکتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ محمد بن نایف نے یمن کے حوالے سے سعودی پالیسیوں ميں تبدیلیوں پرتاکید کی ہے ۔
سعودی عرب کی خوش فہمی پر مبنی پالیسیاں صرف یمن تک محدود نہیں ہیں بلکہ شام کے صدر بشار اسد کو اقتدار سے الگ کرنے میں ناکامی کے حوالے سے بھی سعودی عرب کی حکومت حیران و پریشان ہے ۔سعودی عرب کو خطے میں جنگی پالیسیاں اپنانے کی وجہ سے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے سعودی شہری ایک ایسی کیفیت سے دوچار ہورہے ہیں جو سعودی حکمرانون کے خلاف سول نافرمانی نیز آل سعود ميں اقتدار کی جنگ پر منتج ہو سکتے ہیں۔