شام کے صدر بشار اسد نے کہا ہے کہ دمشق نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ خان شیخون کے سانحے کے بارے میں تحقیقات کرانے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی روانہ کرے۔ مغربی ممالک بالخصوص امریکہ نے تحقیقاتی کمیٹی کے روانہ کئے جانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔

 

شام کے صدر بشار اسد نے کہا ہےکہ دمشق نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ خان شیخون کے سانحے کے بارے میں تحقیقات کرانے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی روانہ کرے۔ مغربی ممالک بالخصوص امریکہ نے تحقیقاتی کمیٹی کے روانہ کئے جانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔

شام کے صدر بشار اسد نے اس امرکی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ شام کی فوج اور عوام بارہا کیمیاوی حملوں کا نشانہ بنے ہیں کہا کہ ان حملوں کی تحقیقات کرنے کے لئے اقوام متحدہ نے ایک بھی ٹیم روانہ نہیں کی ہے۔ صدر بشار اسد نے کہا کہ مغربی ممالک جانتے ہیں کہ اگر کوئی تحقیقاتی کمیٹی شام میں داخل ہوئی تو خان شیخون کے بارے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پروپیگنڈوے بے اثر ہوجائیں گے اور ان کی قلعی کھل جائے گی۔ واضح رہے چار اپریل کو جنوبی ادلب کے علاقے خان شیخوں میں کیمیاوی حملے میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک اور تقریبا چار سو زخمی ہوئے تھے۔ اس مشکوک واقعے کے بعد دہشتگردوں کے حامی مغربی اور عربی اتحاد نے جلدبازی میں ایک اقدام میں بغیر کسی طرح کی تحقیق کئے ہوئے شام کو اس حملے کا ذمہ دار قراردیا تھا۔ شام کی حکومت نے مغرب کے اس الزام کو بھرپور طرح سے مسترد کیا ہے۔

شام میں دوہزار ایک میں سعودی عرب اور امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملوں سے بحران شروع ہوا تھا اور اس بحران کا مقصد صدر بشار اسد کی حکومت کو گرانا تھا ۔ شام کے خلاف مغرب ایسے عالم میں الزامات لگارہا ہے کہ شام کے پاس دوہزار تیرہ سے کیمیاوی ہتھیار نہیں ہیں اور اس مسئلے کی کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے اداروں نے بھی تصدیق کی ہے۔

شام کی حکومت ایسے عالم میں مغرب کے الزاموں کا نشانہ بن رہی ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر اکیس اٹھارہ کی رو سے شام نے اپنے تمام کیمیاوی ہتھیار اور ساز و سامان اور مواد کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے ادارے کی تحویل میں دے دئے ہیں اور اس سلسلے میں تعمیری تعاون کیا ہے۔ ان حقائق کے باوجود شام کے حکام نے عالمی برادری کے ساتھ اپنا تعمیری تعاون جاری رکھنے کے لئے حالیہ دنوں میں بارہا خان شیخوں کے علاقے میں ہونے والے حملوں کی تحقیقات کرائے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ شام کا ہدف ان تحقیقات سے یہ ہے کہ مغرب کی طرف سے گھڑے گئے اس جعلی واقعے سے عالمی رائےعامہ آگاہ ہوسکے۔

مغربی ممالک شام پر ایسے عالم میں کیمیاوی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات لگارہے ہیں کہ شام و عراق میں دہشتگردوں نے متعدد مرتبہ کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔اور یہ حملے امریکہ کی اجازت سے کئے گئے ہیں۔ دہشتگردوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے جانے پر ثبوت و شواہد کی موجودگی کے باوجود شام کی حکومت نے خان شیخوں کے واقعے کی دوبارہ تحقیقات کرانے پر آمادگی ظاہر کی ہے بشرطیکہ اس میں کوئی سیاست بازی نہ کی جائے۔دمشق بدستور خان شیخون کے سانحے کے پہلوؤں کے روشن ہونے اور اپنے خلاف رچی جانے والی سازشوں کا نزدیک سے جائزہ لے رہا ہے شام کی حکومت نے شفافیت کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے تحقیقات انجام دینے کے لئے تمام مطالبات کو قبول کیا ہے اور اس ضمن میں تمام سہولتیں فراہم کی ہیں۔ شام کا مقصد ہے کہ شفاف اور اصولی تحقیقات انجام پائیں۔

البتہ تجربوں سے یہ بات ثابت  ہوتی ہے کہ شام کی نیک نیتی کے مقابلے میں مغرب نے فریبی چالیں چلائی ہیں اور خان شیخون جیسے واقعات کی تحقیقات کرانے میں سیاسی اہداف کو مد نظر رکھا ہے۔ ایسی فضا میں دہشتگردوں نے مغرب کے مکارانہ اور فریبی اقدامات کے زیر سایہ اپنے جھوٹے پروپیگنڈے جاری رکھتے ہوئے حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور بدستور گھناونے جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں۔

 

Apr ۲۱, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۱ UTC
کمنٹس