Jul ۱۱, ۲۰۱۹ ۲۰:۱۷ Asia/Tehran
  • امریکہ اور یورپ میں ٹھنی تجارتی جنگ

امریکی صدر ڈنلڈ ٹرمپ نے پروٹیکشن ازم کی پالیسی کے تحت امریکہ درآمد کی جانے والی اشیا اور میٹریل پر ٹیکسوں میں اضافہ کرکے دنیا کی بہت سی اقتصادی طاقتوں کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑ دی ہے اور حتی واشنگٹن کے یورپی اتحادی بھی ٹرمپ کے حملوں سے محفوظ نہیں۔

امریکہ اور یورپ کے درمیان تجارتی کشیدگی کے پیش نظر یورپی کمیشن نے واشنگٹن کی تجارتی پالیسیوں کو برا‏عظم یورپ کی معیشت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
 یورپی کمیشن نے دس جولائی کو اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی تجارتی پالیسیاں یورپ کی معیشت میں غیر متوقع گراوٹ کا سبب بن رہی ہیں۔
 حکومت امریکہ نے جولائی کے اوائل میں کہا تھا کہ یورپی ملکوں کی جانب سے ایئربس کمپنی کو غیر قانونی طور پر سب سیڈی فراہم کرنے کی وجہ سے یورپی یونین کے رکن ملکوں سے منگائی جانے والی  چار ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر عائد ٹیکسوں میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔
 قبل ازیں یعنی اپریل دوہزار انیس کو بھی امریکہ نے دھمکی دی  تھی کہ یورپی یونین سے اکیس ارب ڈالر مالیت اشیا پر خصوصی کسٹم ڈیوٹی وصول کی جائے گی کیونکہ یورپی یونین ایئر بس کمپنی  کی غیر قانونی مالی حمایت کر رہی ہے۔
 یورپی کمیشن نے بھی جوابی اقدامات کے طور پر امریکہ سے منگائی جانے والی اشیا کی ایک فہرست تیار کی ہے جس میں گاڑیوں کے فاضل پرزہ جات، ہیلی کاپٹر اور منجمد سمندری اشیا شامل ہیں۔
 ادھر بوئینگ کمپنی نے حکومت امریکہ سے اپیل کی ہے کہ ملکی ہوابازی کی صنعت کو تباہی سے بچانے کے لیے ایئر بس کمپنی کے خلاف جوابی اقدامات انجام دیے جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ دونوں ہی اپنی ہوائی صنعتوں کو طیارہ سازی کے میدان میں کمپٹیشن کے  قابل بنانے کے لیے خصوصی مالیاتی سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ اپنی دھونس کے ذریعے یورپ سے ایئر بس کی مالی معاونت بند کرانے کوشش کر رہی جبکہ وہ بوئینگ کی مالی حمایت جاری رکھنا چاہتی ہے۔
واشنگٹن کے اس دوہرے رویئے کو برسلز قبول نہیں کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین نے ٹرمپ کی پروٹیکشن ازم کی پالیسی اور ٹریڈ ٹیرف کی جنگ میں اپنے مورچے سنبھال لیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت سے قبل یورپ اور امریکہ کے درمیان قریبی تجارتی تعلقات رہے ہیں حتی صدر اوباما کے دور میں ٹرانس ایٹلانٹک ٹریڈ ٹریٹی کے حوالے سے مذاکرات کے کئی دور بھی ہوئے تھے۔ لیکن اب صورتحال مختلف ہے اور امریکہ کے ہلڑباز صدر ٹرمپ نے نہ صرف ٹرانس ایٹلانٹک مذاکرات کو معطل کردیا ہے بلکہ وہ  بارہا یورپ سے منگائی جانے والی  اشیا پر ڈیوٹی میں اضافے کا بھی مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
یورپ والوں کا خیال ہے کہ تجارتی جنگ عالمی اقتصادی ترقی میں گراوٹ کا باعث بنی ہے جس نے غیر یقینی کی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ اس تجارتی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان عام صارفین کو اٹھانا پڑے گا اور اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔
اگرچہ یورپی کمیشن نے پہلی بار امریکہ کی تجارتی جنگ کے منفی اثرات کے بارے میں یورپی ملکوں کو باضابطہ خبردار کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی جنگ میں شدت پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

ٹیگس

کمنٹس