Dec ۰۹, ۲۰۱۹ ۱۴:۰۷ Asia/Tehran
  • ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی ممکنہ جنگ اور اس کے نتائج (پہلا حصہ)

آجکل جو امریکی جنرلز اور ان کے امریکی ساتھیوں کے بیانات اور اسی طرح خلیج فارس میں امریکی فوجیوں اور جنگی بیڑوں کی بھیڑ پر توجہ دے رہا ہوگا اسے یہ گمان ہو گیا ہوگا کہ ایران پر جلد ہی حملہ ہو سکتا ہے اور اسے یہ بھی اندازہ ہوگا کہ ایران کو خطرے کا احساس ہے اور وہ اس طرح کے ممکنہ خطروں کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر چکا ہے لیکن حقیقت میں ایران پراس طرح کا کوئی حملہ ہو سکتا ہے؟

یہ ایک قابل بحث موضوع ہے۔ سب سے پہلے کچھ نکات پر توجہ دیں:

پہلا: اسرائیلی خفیہ ایجنسی سے متعلق ویب سایٹ دبکا نے بتایا کہ گزشتہ اتوار کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے دوست، نتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونی گفتگو، ایران کے خلاف فوجی حملے پر مرکوز رہی ہے۔

دوسرا: امریکا کے بڑے بڑے جنرلز، فوجی حکام، فضائیہ کے سربراہ اور امریکی فوج کے سربراہ، مسلسل تل ابیب کا سفر کر رہے ہیں اور اپنے اسرائیلی ہم منصبوں سے گفتگو کر رہے ہیں، جو حقیقت میں ایران کے خلاف کسی آنے والی جنگ کی تیاری سے متعلق ہو سکتی ہے۔

تیسرا: خلیج فارس کے ممالک کے سینئیر فوجی حکام سے ملاقات کے لئے اسرائیلی فوج کے عہدیداروں کا ایک وفد واشنگٹن گیا ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے فوجی عہدیداروں سے گفتکو کرنے، اس دوران عدم جارحیت معاہدے پر دستخط ہوں گے اور ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی جنگ میں کرداروں کی تقسیم بھی ہوگی جس میں اسرائیلی جنگی طیاروں اور فوجی ائیربیس دینا بھی شامل ہے۔

چوتھا: امریکا کا بڑا جنگی بیڑا ابراہم لنکن آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے خلیج فارس پہنچ گیا ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حکام نے اپنی عادت کے مطابق کہا ہے کہ یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ ایران، اسرائیلی مفادات پر حملے کا منصوبہ تیار کر رہا ہے تاکہ دمشق کے نزدیک ایرانی اور شامی اہداف پر اسرائیل کے راکٹ حملوں کا انتقام لیا جا سکے۔

جاری...

بشکریہ

رای الیوم

عبد الباری عطوان

* مقالہ نگار کے موقف سے سحر عالمی نیٹ ورک کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے*

ٹیگس

کمنٹس