Jan ۱۸, ۲۰۲۰ ۱۳:۱۲ Asia/Tehran
  • یوکرین کے مسافرطیارے کے حادثے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، ایران

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ یوکرین کے مسافرطیارہ حادثے پر سیاست نہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حادثے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے مسقط میں کینیڈا کے وزیرخارجہ سے اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے ٹویٹر پیج پر لکھا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اپنی ملاقات میں یوکرین کے مسافرطیارے کے حادثے کے متاثرین کے قانونی حقوق اور اسی طرح فنی اور کونسلنگ کے معاملات کے بارے میں بات چیت کی - اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف اور کینیڈا کے وزیرخارجہ فرانسوا فلیپس شامپین  نے مسقط میں ملاقات کی ہے - یہ ملاقات کینیڈا کی درخواست پر ہوئی تھی - دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے یوکرین کے مسافر طیارے کے حادثے پر ایک بار پھر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ملکوں کی وزارتوں کی تحقیقاتی ٹیمیں اس سلسلے میں رابطے جاری رکھیں گی   - ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے اپنے ٹویٹر پیج پر اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ دونوں ملکوں نے متعلقہ ماہرین کی ٹیموں کی معلومات کےتبادلے پر اتفاق کیا ہے کہا کہ اس سانحے کو سیاسی رنگ دینے سے اجتناب کرنا چاہئے اور سب کو چاہئے کہ وہ حادثے میں جاں بحق ہونےوالوں کے اہل خانہ پر توجہ دیں - ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے بھی حادثے کے سبھی فریقوں سے کہا کہ وہ انسانی معاملات خاص طور پر یوکرین کے مسافرطیارہ حادثے کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ ہونے دیں -  بدھ آٹھ جنوری کی صبح یوکرین کی قومی ایئر لائنس کا ایک مسافرطیارہ جو تہران سے کیف جارہا تھا کہ تہران کے قریب ایک انسانی غلطی کے نتیجے میں گر کر تباہ  ہوگیا  اور اس میں سوار مسافر اور عملے کے سبھی ایک سو چھہتر افراد جاں بحق ہوگئے - ان میں سے ایک سو سینتالیس مسافروں کا تعلق ایران سے تھا جبکہ باقی مسافر یوکرین ، کینیڈا ، سوئیڈن برطانیہ اور افغانستان سے تھے  - ایران کی وزارت خارجہ نے اس غم انگیز حادثے کے بعد جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کی درخواست پر عمل کرنے کے لئے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے - ایران  کی وزارت خارجہ نے اسی طرح بیرون ملک اپنے نمائندہ سیاسی دفاتر اور قونصل خانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے ہر طرح کا تعاون کریں اور ان کی درخواست پر خصوصی توجہ دیں -

 

کمنٹس