Jun ۲۶, ۲۰۱۹ ۱۴:۳۲ Asia/Tehran
  • فلسطین برائے فروخت نہیں، اسما‏عیل ہنیہ

حماس کے سربراہ ڈاکٹر اسما‏عیل ہنیہ نے سینچری اور بحرین کانفرنس دونوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے فلسطین برائے فروخت نہیں۔

فلسطین کی تحریک حماس کے سربراہ ڈاکٹر اسما‏عیل ہنیہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین کو ریکارڈ توڑ اسٹریٹیجک خطرات کا سامنا ہے تاہم فلسطین کے عوام تمام خطرات کو عبور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
حماس کے سربراہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ بیت المقدس اور پوری سرزمین فلسطین، فلسطینیوں سے مربوط ہے اور انہوں نے کسی کو بھی اپنی طرف سے بارگیننگ اور گٹھ جوڑ کا اختیار نہیں دیا ہے۔
اسماعیل ہنیہ نے واضح کیا کہ بحرین کانفرنس اقتصادی اور مالی معاملات کی آڑ میں منعقد کی جانے والی سیاسی کانفرنس ہے جس کا مقصد مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ کے لیے نابود کرنا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ناپاک سینچری ڈیل منصوبے کے تحت، دو روزہ بحرین کانفرنس منگل سے منامہ میں شروع ہو گئی ہے۔ اس کانفرنس کو سینچری منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا پہلا مرحلہ قرار دیا جارہا ہے۔
لبنان، عراق، چین اور روس سمیت بہت سے اسلامی اور غیر اسلامی ملکوں نے بحرین کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سینچری ڈیل کے پہلے مرحلے میں فلسطینی اراضی مصر، اردن اور لبنان میں پچاس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر مرکوز ہے۔
 دوسری جانب تنظیم آزادی فلسطین کی مجلس عاملہ نے کے سربراہ  صا‏ئب عریقات نے کہا ہے کہ فلسطین کے عوام اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
 بحرین کانفرنس میں شریک امریکی صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کوشنر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے صائب عریقات کا کہنا تھا کہ امریکہ جو منصوبہ پیش کر رہا ہے اس کا عرب امن منصوبے اور عالمی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں اور اس کا مقصد غاصبانہ قبضے کو قبول کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحرین کانفرنس عرب امن منصوبے کی نابودی کے مترادف ہے، کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ  فلسطین کے عوام صہیونی آبادکاری، قبضے، ترک مزاحمت اور سرمایہ کاری سب کو ایک ساتھ قبول کر لیں۔
 کوشنر نے بحرین اقتصادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ امریکہ فلسطینی عوام کی زندگی بہتر بنانا چاہتا ہے۔انہوں نے یہ دعوی ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکہ  نے فلسطین اور فلسطینیوں کو امداد فراہم کرنے والے عالمی ادارے انروا نیز فلسطینی اسپتالوں اور اسکولوں کو دی جانے والی مالی امداد بند کر دی ہے۔
درایں اثنا عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے رہنما جمیل مزہر نے بھی بحرین کانفرنس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینچری ڈیل منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔
 جمیل مزہر نے منگل کی شب غزہ میں سینچری ڈیل اور بحرین کانفرنس کے خلاف منعقدہ ایک احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے عوام اپنے مسلمہ حقوق کی جانب بڑھنے والے ہر ہاتھ کو کاٹ ڈالیں گے۔
 انہوں نے کہا کہ بحرین کانفرنس میں عرب ملکوں کی شرکت فلسطینی کاز سے کھلی غداری ہے  اور امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔
 عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کی سیاسی کونسل کے رکن نے واضح کیا کہ فلسطین کے عوام اس بات کو ہرگز قبول نہیں کریں گے کہ صہیونی ان کے درمیان زندگی بسر کرنا شروع کر دیں۔
ایک اور اطلاع کے مطابق اردن کے اراکین پارلیمنٹ نے بحرین کانفرنس میں شرکت کی بنا پر وزیراعظم کے مواخذے کا مطالبہ کر دیا۔
 اردن کی پارلیمنٹ میں نیشنل ریفارمسٹ گروپ سے تعلق رکھنے والے ارکان کا کہنا ہے کہ حکومت نے عوام اور عوام کے منتخب نمائندوں کی رائے اور موقف کو نظر انداز کرتے ہوئے بحرین کانفرنس میں شرکت کی ہے۔
 واضح رہے کہ امریکی صیہونی منصوبے سینچری ڈیل کے تحت دو روزہ بحرین کانفرنس منگل سے اس ملک کے دارالحکومت منامہ میں شروع ہو گئی ہے۔

ٹیگس

کمنٹس