تحریر: نوید حیدر تقوی

چین کے عوام اپنی قدیم و دیرینہ ثقافت کی بنیاد پر بہت سے قومی اور روایتی تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ ان میں سب سے معروف عید بہار یا جشن نوروز ہے جس کا آغاز چینی کیلینڈر کے آخری مہینے کے ختم ہونے سے آٹھ دن پہلے ہوتا ہے اور نئے سال کے پہلے مہینے کی پندرہ تاریخ تک جاری رہتا ہے۔ بہار کے پہلے مہینے کی پندرہ تاریخ کو جشن فانوس منایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی عید بہار کے ختم ہونے کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چین میں عید بہار یا نوروز کا جشن، ایران میں نوروز سے ایک مہینے قبل منعقد ہوتا ہے۔ چین کے عوام عید بہار کی آمد سے پہلے ہی اس کی تیاری کرنا شروع کردیتے ہیں، گھروں میں صفائی ستھرائی کا اور دھونے دھلانے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔  چینی عوام نوروز کی تیاری کے دائرے میں اپنے گھروں میں رنگ روغن کرتے ہیں اور ان ایام کے لئے نئے کپڑے تیار کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پھولوں وغیرہ کی خریداری اور مٹھائیوں کو تیار کرنے کا کام بھی چینی خواتین نہایت ہی جوش و خروش سے انجام دیتی ہیں۔ نوروز کے دن بچے اپنے بڑوں سے عیدی دریافت کرتے ہیں اور ان کو عید بہار کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان ایام میں تحفہ تحائف دینے کی رسم بھی چینی عوام میں رائج ہے۔ چین کے مسلمان آبادی والے صوبے سن کیانگ میں واقع تاشقورغان  میں نوروز نہایت ہی خوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اس علاقے میں موجود خاندانوں کے بزرگ افراد کی یہ رسم ہے کہ وہ ایک بڑی روٹی کہ جو نوروز کے مہمانوں کے لئے پکائی جاتی ہے نوروز والے دن مہمانوں کی موجودگی میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے اور بسم اللہ پڑھ کر مہمانوں کو پیش کرتے ہیں۔

جشن نوروز کی مانند ہولی اور بسنت کے جشن ہندوؤں کے درمیان رائج ہیں۔ یہ جشن بہار کے موسم کی آمد پر منعقد کئے جاتے ہیں۔ ہندوؤں کی ہولی، رنگارنگ بہار کی مانند ہے اور اس جشن میں رنگ پاشی کی جاتی ہے۔ یہ تقریبات ایک دن تک جاری رہتی ہیں۔

مناسب ہے کہ یہاں پر یہ بیان کیا جائے کہ زنگبار میں بھی عوام نوروز کا جشن مناتے ہیں۔ کیونکہ صدیوں قبل شیراز کے کچھ افراد نے براعظم افریقہ کے مشرقی کنارے کے علاقے زنگبار ہجرت کی تھی اور ایرانی تہوار منجملہ نوروز کو یہ افراد اپنے ساتھ اس علاقے میں لے گئے۔ زنگبار میں جشن نوروز نوروزی کے عنوان سے منایا جاتا ہے اور آج بھی بہار کی آمد کے ساتھ ہی جشن نوروز کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔

 

 

 

Mar ۱۸, ۲۰۱۷ ۲۰:۲۱ UTC
کمنٹس