Apr ۰۱, ۲۰۲۰ ۰۸:۱۴ Asia/Tehran
  • حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں توبہ؟

کسی نے حضرت علی علیہ السلام کے سامنے ’’استغفر اللہ‘‘ کہا،  آپ نے فرمایا تیری ماں تیرے ماتم میں روئے، تمہیں معلوم ہے کہ استغفار کیا ہے؟

فرمایا: 'اس کا استغفار زبان تک محدود تھا اور دل حقیقت توبہ سے نا آشنا تھا' امام علی علیہ السلام نے فرمایا: "استغفار" بلند مقام افراد اور صدر نشین اشخاص کا مرتبہ ہے، استغفار میں 6چھ چیزوں کا ہونا ضروری ہے:

۱۔ گزشتہ بد اعمال سے پشیمانی اور شرمندگی۔

۲۔ ہمیشہ کے لئے گناہ ترک کرنے کا مصمم ارادہ۔

۳۔ لوگوں کے حقوق اس طرح ادا کریں کہ مرتے وقت کسی قسم کا حق اس کے ذمہ نہ ہو اور پاکیزہ حالت میں رحمت خدا سے پیوستہ ہوجائے۔

۴۔ ہر وہ واجب جسے انجام نہ دیا ہو اس کی تلافی کرے۔

۵۔ مال حرام سے بدن پر چڑھنے والے گوشت کو غم آخرت سے اس طرح پگھلائے کہ بدن کی کھال ہڈیوں سے متصل ہو جائے اور پھر حلال گوشت بدن پر پیدا ہو جائے۔

۶۔ اپنے جسم کو عبادت سے مانوس کرے اور اپنے بدن کو عادت سے اس طرح مزہ چکھائے جس طرح عیش اور دن رات گناہ کی لذت سے مانوس کیا تھا۔

جب تم میں یہ چھ صفتیں پیدا ہوں اس وقت تم ’’استغفر اللہ‘‘ کا ورد پڑھنے کے اہل ہو۔

حوالہ: الكافي، ج۲، ص۴۳۱

الكافي (ط - الإسلامية)،  محمد بن يعقوب كلينى، دار الكتب الإسلامية، ۱۴۰۷ ق۔

ٹیگس

کمنٹس