Aug ۲۹, ۲۰۲۰ ۲۱:۱۷ Asia/Tehran
  • شب عاشور، عبادتِ خدا اور اعلان وفاداری کی شب!

شب عاشور بڑی قیامت خیز شب ہے۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ کربلا کے تپتے صحرا میں دشمنان دین نے فرزند پیغمبر اور انکے اعزا و اقارب اور اصحاب کو اپنے محاصرے میں لے کر ان کا کام تمام کرنا چاہا۔

ابن زیاد کے کمانڈر عمر سعد  کے لشکر نے نویں محرم کو حملہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن امام حسین (ع) نے اپنے بھائی پیکر وفا علمدار کربلا حضرت عباس علیہ السلام سے چاہا کہ اعدائے دیں سے ایک شب کی مہلت لیں تاکہ ایک بار اور تمام شب کو عبادت راز و نیاز اور تلاوت قرآن میں بسر کیا جا سکے۔

آپ نے ابوالفضل العباس سے فرمایا: ان سے کہو کہ اگر ممکن ہو تو جنگ کے لئے کل تک صبر کریں اور آج کی رات ہمیں مہلت دیں تا کہ ہم اپنے خدا کے ساتھ راز و نیاز کریں اور اس کی بارگاہ میں نماز ادا کر سکیں۔ خدا ہی جانتا ہے کہ میں کس قدر نماز اور تلاوت قرآن کو پسند کرتا ہوں۔ مصادر میں نقل ہوا ہے کہ امام (ع) اور آپ (ع) کے اصحاب نے پوری شب نماز، دعا اور استغفار میں بسر کی۔

امام حسین(ع) نے اس رات اپنے اصحاب سے گفتگو کی اور انہیں اپنا باوفا ساتھی قرار دیا۔ اصحاب حسین (ع) نے بھی تمام تر جوش و ولولے کے ساتھ اپنی مکمل وفاداری کا یقین دلایا۔

مقاتل نے نقل کیا ہے کہ امام حسین (ع) نے شب عاشور کے ابتدائی حصے میں اپنے اصحاب کو جمع کیا اور خدائے سبحان کی حمد و ثناء کے بعد ان سے خطاب فرمایا:

أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَصْحَاباً أَوْفَى وَ لَا خَيْراً مِنْ أَصْحَابِي وَ لَا أَہْلَ بَيْتٍ أَبَرَّ وَ لَا أَوْصَلَ مِنْ أَہْلِ بَيْتِي فَجَزَاكُمُ اللَّہُ عَنِّي خَيْراً؛ یعنی میں نے اپنے اصحاب سے زیادہ باوفا اور بہتر نیز اپنے خاندان سے زیادہ نیک اور مہربان کسی کو نہیں پایا۔ اللہ تعالیٰ آپکو میری طرف سے نیک صلہ عطا فرمائے۔

اس کے بعد آپ نے فرمایا: ’’میرے خیال میں اس قوم کی جانب سے ہمارے لئے یہ آخری مہلت ہے. آگاہ رہو کہ میں نے تم لوگوں کو جانے کی اجازت دی ہے اور تم سب تمام تر اطمینان خاطر کے ساتھ چلے جاؤ،میری طرف سے تمہاری گردنوں پر کوئی بیعت نہیں ہے، رات کی تاریکی میں تم لوگ سواری لے کر یہاں سے چلے جاؤ۔

امام علیہ السلام کے یہ جملے سن کر آپ کے اصحاب میں جذبہ ولا جوش میں آیا اور سب نے ایک ایک کر کے یہ اعلان کیا کہ وہ آپ کو چھوڑ کر چلے جائیں، یہ ممکن نہیں ہے۔ امام (ع) کے اہل بیت اور آپ (ع) کے اصحاب بالخصوص ابو الفضل العباس، زہیر قین اور حبیب بن مظاہر نے باری باری اپنی اپنی طرف سے مکمل وفاداری اور اپنی جانوں کو امام (ع) کی حفاظت کی خاطر قربان کرنے کے لئے اپنے فولادی عزم کا اعلان کیا۔

شاعر نے یہاں کیا خوب کہا ہے:

یہی  کہتے  ہوئے  شہہ  نے  چراغوں  کو  بجھایا  ہے

یہ  ہیرے ہیں اجالوں میں  انہیں  پرکھا نہیں جاتا

اعمال شب عاشور

شب عاشور شب عبادت ہے اور اسی کے پیش نظر مفاتیح الجنان میں اس شب کے لئے کچھ اعمال ذکر ہوئے ہیں ہیں:

شب بیداری: حضرت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی روایت کے مطابق جو کوئی اس رات کو جاگ کر گزارتا ہے گویا اس نے تمام فرشتوں کی عبادت انجام دی ہے۔

سو رکعت نماز: ہر رکعت میں حمد کے بعد تین بار سورہ اخلاص پڑھی جائے اور سو رکعات کے اختتام پر، ستر مرتبہسُبْحانَ اللّہِ وَ الْحَمْدُ لِلّہِ وَ لا إلہَ إلاَّ اللّہُ وَ اللّہُ اَکْبَرُ وَ لا حَوْلَ وَ لا قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّہِ الْعَلِىِّ الْعَظِیمِ کہا جائے۔

چار رکعت نماز: رات کے آخری حصے میں اس طرح پڑھی جائے کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد دس بار آیت الکرسی، دس بار سورہ توحید دس بار سورہ فلق اور دس بار سورہ ناس پڑھی جائے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت کی جائے۔

(بشکریہ ویکی شیعہ، قدرے تبدیلی کے ساتھ)

 

ٹیگس

کمنٹس