ایران کے خلاف امریکہ کی سازشیں
Aug ۰۴, ۲۰۱۵ ۲۱:۴۴ Asia/Tehran
-
general martin dimpsy
امریکہ کے چيفس آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل مارٹن ڈمپسی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ پانچ جمع کا ایٹمی معاہدہ گرچہ ایران کو ایٹمی ہتھیار کے حصول سے روک سکتا ہے لیکن ایران کے تعلق سے دیگر تشویشوں کو دور نہیں کرے گا۔
امریکہ کے چيفس آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل مارٹن ڈمپسی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ پانچ جمع کا ایٹمی معاہدہ گرچہ ایران کو ایٹمی ہتھیار کے حصول سے روک سکتا ہے لیکن ایران کے تعلق سے دیگر تشویشوں کو دور نہیں کرے گا۔ جنرل مارٹن ڈمپسی بدھ کو امریکی سینیٹ میں مسلح افواج کمیٹی سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ ایران کے تشویشناک اقدمات ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، ہتھیاروں کی اسمگلنگ، کرائے کے ایجنٹوں کے استعمال، سمندری بارودی سرنگوں کا استعمال، سمندر میں زیر آب سرگرمیاں اور سائبر اسپیس میں بقول ان کے مذموم سرگرمیوں کو شامل ہیں۔ واضح رہے سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کی اس نشست میں امریکی وزیر جنگ ایشٹن کارٹر بھی موجود تھے جنہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ ایٹمی معاہدہ آگے بڑھے گا لیکن اس پر کامیابی سے عمل درآمد نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے صدر اوباما نے ہمیں حکم دیا ہے کہ فوجی کاروائيوں کا آپشن میز پر رکھیں۔ واضح رہے ایران اور پانچ جمع ایک کے مذاکرات اور ویانا میں ایران کےساتھ طے پانے والے ایٹمی معاہدے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توثیق کے بعد بھی ایران کے خلاف امریکہ کی مخاصمانہ چالیں اور بے بنیاد الزامات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جنرل ڈمپسی اور ایشٹن کارٹر کے بیانات ان ہی اھداف کےتحت سامنے آئے ہیں اور ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ بدستور ایران کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے اور اسے بدنام کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ان اقدامات سے امریکہ چاہتا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالنے اور دھمکیاں دینے کے ہتھکنڈوں کا حامل رہے۔ امریکی وزیر خارجہ بھی ان ہی پالیسیوں پر گامزن ہیں۔انہوں نے بھی بے بنیاد دعوے کرکے کہا ہے کہ بقول ان کے ایران دہشتگردی کی حمایت کررہا ہے۔ یہ سارے بیانات ایرانوفوبیا کے پرانے حربے ہیں۔ ان کامقصد ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو خطرہ بنا کر پیش کرنا، ایران پر دہشتگردی کی حمایت کا الزام لگانا اور ایران کی دفاعی توانائیوں کو خطرہ بنا کر پیش کرنا ہے۔ امریکہ کی ان پروپگينڈا پالیسیوں کا مقصد داخلی رائے عامہ کو مطمئن کرنا ہے۔امریکی حکام ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو شدید خطرہ بناکر پیش کررہے ہیں اور یہ ظاہر کررہے ہیں کہ انہوں نے علاقے کو ایک سنگين خطرے سے نجات دلائي ہے، ان کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کے ھدف سے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کیا اور یہ ان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔ واضح رہے امریکہ کے یہ سارے دعوے کھوکھلے ہیں کیونکہ یہ الزام کہ ایران کا ایٹمی پروگرام خطرہ ہے بے بنیاد ہے کیونکہ ماضی میں بھی کبھی بھی ایران کا ایٹمی پروگرام خطرہ نہیں تھا اور آئندہ بھی نہیں رہے گا۔ایران نے اپنی دفاعی توانائي کے بارے میں بھی بارہا اعلان کیا ہے کہ ایران کی دفاعی اور میزائلی طاقت ایک ڈیٹیرینٹ طاقت ہے اور ایران نے دھمکیوں اور خطروں کے مقابل ہمیشہ آمادہ رہنے پر زور دیا ہے۔ ایران کی ایٹمی ڈاکٹرین میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار منجملہ ایٹمی ہتھیاروں کی کوئي جگہ نہیں ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے حرام ہونے کے بارے میں رہبرانقلاب اسلامی کا فتوی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے کے سلسلے میں اخلاقی، انسانی اور دینی لحاظ سے سب سے بڑی ضمانت ہے اور اس سے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں واضح طور پر ایران کا موقف سامنے آجاتا ہے اور اسے اقوام متحدہ نے اپنی دستاویز کی حیثیت سے رجسٹر کرلیا ہے۔
امریکہ ایسے عالم میں ایران کی ایٹمی پروگرام کے بارے میں تشویش ظاہر کررہا ہے کہ وہ خود کھلم کھلا این پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے اور اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی جدید کاری نیز نئی نسل کے ایٹیمی ہتھیار بناکر ایٹمی ہتھیاروں میں اضافہ کررہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ این پی ٹی معاہدے میں کہا گيا ہے کہ ایٹمی ہتھیار کے مالک ملکوں کو اپنے ایٹمی ہتھیار تباہ کرنے ہونگے لیکن امریکہ نے اپنے ایٹمی ہتھیار تباہ کرنے کے لئے کوئي موثر اقدام نہيں کیا ہے بلکہ اس نے ایٹمی ہتھیاروں میں اضافہ کرنے کے لئے صیہونی حکومت کی بھی مدد کی ہےجس کے ایٹمی ہتھیار نہ صرف علاقے بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔