دہشت گردوں کو سہولتیں فراہم کرنے کی لندن کی پالیسی پر ایران کی تنقید
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنی برطانوی ہم منصب کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں، دہشت گردوں کو سہولتیں فراہم کرنے کی لندن کی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔
سحرنیوز/ایران: وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنی برطانوی ہم منصب ایوٹ کوپر کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں کہا کہ ہم پر دوسری بار مذاکرات کے دوران حملہ کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکا اور صیہونی حکومت نے سبھی بین الاقوامی قوانین اور اصول وضوابط کو پامال کرتے ہوئے، ہمارے خلاف وحشیانہ جارحیت شروع کی، ہمارے رہبر اور اعل حکام اور 170 اسکولی بچیوں سمیت بڑی تعداد میں عام شہریوں کو شہید کیا۔
انھوں نے اس کھلی جارحیت پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی حمایت میں برطانیہ اور بعض دیگر یورپی ملکوں کے منفی کردار پر سخت تنقید کی ۔
انھوں نے اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے مطابق دفاع کو ایران کا مسلمہ حق قرار دیا اور کہا کہ ہم نے پڑوسی ملکوں کے اقتدار اعلی کا احترام کیا اور ان پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے، لیکن افسوس کہ امریکی اڈے ان ملکوں میں واقع ہیں جہاں سے ہم پر حملے کئے جاتے ہیں اور ان ملکوں نے ایران کےخلاف اپنی سرزمین سے ایران کے خلاف حملوں کو روکنے کی بین الاقوامی ذمہ داری پر عمل نہیں کیا ہے۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایران کی جنوبی پارس گیس تنصیبات پر حملے کی سخت مذمت اوربرطانیہ نیز بعض دیگر ملکوں کی جانب سے اس خطرناک حملے کی مذمت نہ کئے جانے پرتنقید کی۔
انھوں نے ایران کے خلاف غیرقانونی جارحیت میں جارحین کی ہر قسم کی مدد اور ان کے ساتھ تعاون کی بابت خبردارکرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات صرف حالات کو مزید پیچیدہ اور خراب کریں گے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ حالات کے معمول پر آنے کی واحد راہ ایران کے خلاف حملوں کی بندش اوراس بات کی ضمانت ہے کہ آئندہ جارحیت کی تکرار نہیں ہوگی۔
ایران کے وزیر خارجہ نے برطانوی فوجی اڈے امریکا کے اختیار میں دیئے جانے پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ یہ اقدامات جارحیت میں مشارکت سمجھے جائيں گے اور اسی کے ساتھ ہم اس حوالے سے اپنے لئے ملک کی آزادی اور اقتدار اعلی کے دفاع کا حق محفو ظ سمجھتے ہیں۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ برطانوی حکام امریکا اور صیہونی حکومت کی ہر قسم کی فوجی اور ابلاغیاتی مدد اور دہشت گرد گروہوں کو سہولتیں فراہم کرنے سے گریز کریں۔
برطانوی وزیر خارجہ نے اس ٹیلیفونی گفتگو میں جنگ رکنے اور علاقے میں کشیدگی کم ہونے کی ضرورت پر زور دیا اور اس جنگ کے علاقائی نیز عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی نتائج نیز آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel