شام کے خلاف دشمنوں کے نئے اقدامات
Sep ۱۲, ۲۰۱۵ ۱۷:۵۷ Asia/Tehran
-
شام کے خلاف دشمنوں کے نئے اقدامات
شام کی سیاسی شخصیتوں نے شام کے خلاف دشمنوں کے نئے اقدامات منجملہ پرامن علاقوں میں دوبارہ بدامنی پھیلانے نیز پناہ گزینوں کے سلسلے میں میڈیا وار اورشام کے لئے روس کی فوجی امداد کے جھوٹے الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات کا ھدف صیہونی حکومت کے مفادات پورے کرنا اور شام پر حملے کرنے کی تیاریاں کرنا ہے۔
شام کی پارلیمنٹ کے رکن وسف الاسعد نے پرامن علاقوں میں
دہشتگردانہ حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بارے میں کہا ہے کہ دہشتگرد گروہوں نے ان
کے زیر قبضہ علاقوں میں شامی فوج کی پیش قدمی کے جواب میں عوام میں رعب و وحشت
پھیلانے کے لئے سویدا اور لاذقیہ سمیت دیگر پرامن علاقوں میں دہشتگردانہ حملے کرنا
شروع کردئے ہیں۔
الاسعد نے کہا کہ شہر سویدا میں دہشتگردانہ حملے اور دروزی فرقے
کے مذہبی رہنما شیخ وحید البلعوس کے قتل کا ھدف اس شہر کے باشندوں کے درمیان تفرقہ
پھیلانا ہے۔ الاسعد نے کہا کہ اس امر کے پیش نظر کہ صیہونی حکومت شام میں جاری
بدامنی سے بھرپور فائدہ اٹھارہی ہے یہ وثوق سے کہا جاسکتا ہےکہ صیہونی حکومت تمام
تشدد آمیز واقعات یہانتک کہ خلیج فارس کے عرب ملکوں کو تکفیری دہشتگردوں کی مالی
مدد کرنے پر اکسانے میں بھی ملوث ہے۔
ادھر شام کی پارلیمنٹ کے ایک اور رکن خالد
العبود نے کہا ہےکہ پرامن علاقوں جیسے دمشق، لاذقیہ، درعا اور حلب میں دوبارہ
دہشتگردانہ حملے اور بعض شخصیتوں کے قتل سے معلوم ہوتا ہےکہ بعض علاقائي ممالک شام
کے تمام علاقوں کو تشدد زدہ ظاہر کرکے سیاسی راہ حل کے لئے ہونے والے ممکنہ
مذاکرات میں شام سے مراعات حاصل کرنے کے درپئے دکھائي دیتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی
کہا کہ صیہونی حکومت کو شام کے صدر بشار اسد، ایران اور روس کے ہاتھوں شام کے
بحران کے حل پر صیہونی حکومت کو شدید تشویش لاحق ہوچکی ہے۔ ادھر شام کے ایک اور
رکن پارلیمنٹ خلیل مشہدیہ نے کہا ہےکہ مغربی ملکوں کی جانب سے شام کے آوارہ وطن
افراد کا مسئلہ اٹھایا جانا شام پرحملوں کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ملکوں
کی جانب سے شام کے پناہ گزینوں کے خیرمقدم کے بارے میں مغربی میڈیا کا پروپگينڈا
یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانی اسمگلروں نے یورپ کی طرف کوچ کرنے کے لئے شام کی جواں
نسل کا انتخاب کیا ہے تا کہ شام کو مفید افرادی قوت سے خالی کردیا جائے جو اس ملک
کی حامی قوت تصور کی جاتی ہے۔
ادھر شام کے وزیراطلاعات و نشریات عمران الزعبی نے ان خبروں کی تردید کی ہےکہ شام
میں روس کے فوجی لڑرہے ہیں اورکہا ہے کہ یہ مغربی انٹلیجنس ایجنسیوں کا شوشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس کے فوجی شام میں نہیں ہیں اورروسی فوج نے خواہ وہ فضائيہ ہویا زمینی فوج یا بحریہ ہو کسی بھی آپریشن میں شرکت نہيں کی ہے۔
واضح رہے امریکہ کے
اخبارنیویارک ٹائمزنے امریکہ کے انٹلیجنس تجزیہ نگاروں کے حوالے سے لکھا ہےکہ
روس نے شام کے لئے اپنے فوجی بھیجے ہیں۔