Nov ۱۵, ۲۰۱۵ ۱۸:۵۲ Asia/Tehran
  • برطانوی فوجی اڈے کی تعمیر کے خلاف بحرینی عوام کا احتجاج

بحرین کے عوام نے اپنے ملک کے دارالحکومت منامہ میں ہفتے کے دن مظاہرہ کر کے میناء سلطان بندرگاہ میں برطانوی فوجی اڈے کی تعمیر کے خلاف اپنی نفرت اور غصے کا اظہار کیا۔

مظاہرین نے اپنے ملک میں غیر ملکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی مذمت میں نعرے لگائے اور اس برطانوی فوجی اڈے کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کیا۔ بحرین کے مظاہرین نے ایسی حالت میں اپنے ملک میں فوجی اڈے کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کیا ہے کہ اس فوجی اڈے کی تعمیر کے زیادہ تر اخراجات آل خلیفہ حکومت برداشت کر رہی ہے۔ اس فوجی اڈے میں برطانیہ کے مختلف بحری جنگی بیڑوں کو رکھا جائے گا۔ سنہ دو ہزار گیارہ سے بحرین میں عوامی اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس ملک کے عوام اپنے قانونی حقوق کے حصول، جمہوریت کے قیام اور آل خلیفہ حکومت کے تشدد کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ اس کے علاوہ عوام بحرین کو یورپی حکومتوں سے وابستہ کرنے پر مبنی آل خلیفہ حکومت کی پالیسیوں سے اپنی مخالفت کا اظہار بھی کرتے چلے آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ برطانوی اور بحرینی حکام نے تقریبا ایک سال قبل منامہ مذاکرات کے نام سے موسوم اجلاس کے موقع پر ایک سمجھوتے پر دستخط کئے تھے جس کے مطابق طے پایا ہے کہ خلیج فارس میں برطانوی کی بحریہ کی حمایت کے مقصد سے بحرین کی سلمان بندرگاہ پر ایک لاجسٹک اڈا قائم کیا جائے گا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب اس معاہدے سے کچھ عرصہ قبل برطانوی وزارت دفاع نے بھی بحرین کی سلمان بندرگاہ میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافے پر مبنی ایک معاہدے کی خبر دی تھی۔ واضح رہے کہ اس جگہ برطانیہ کے چار بحری جہاز مستقل بنیادوں پر موجود ہیں۔ بحرین کی بندرگاہ سلمان میں برطانوی فوجی اڈے کی تعمیر سے متعلق بحرین اور برطانیہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے دستخط کئے تھے ۔ اور اسے منامہ اور لندن کے تعلقات میں توسیع کی جانب ایک قدم قرار دیا تھا۔
اس میں شک نہیں کہ خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر برطانیہ کی فوجی پوزیشن کی تقویت پر منتج ہونے والی نئے سیکورٹی معاہدے سے منامہ اور لندن دونوں اپنے اپنے خاص اہداف کے حصول کے درپے ہیں۔
اس وقت آل خلیفہ کی حکومت کو شدید اعتراضات کا سامنا ہے اور یہ حکومت بحرینی عوام کی انقلابی تحریک کو کچلنے کے لئے برطانوی فوجیوں سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ حتی بعض نیوز چینلز نے برطانوی فوجیوں کو بحرین میں بھیجے جانے کا مقصد ہی اس ملک کی عوامی تحریک پر قابو پانا قرار دیا ہے۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ حالیہ چار برسوں کے دوران آل خلیفہ حکومت نے یورپی حکام سے با رہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحرین میں قیام امن کے لئے شاہی حکومت کی مدد کریں جبکہ لندن نے خاص اہداف کے حصول کے لئے بحرین کے ساتھ فوجی معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔
برطانیہ کو خلیج فارس کے جنوبی ساحلی عرب ممالک میں اپنی سامراجی موجودگی کا زمانہ فراموش نہیں ہوا ہے اور وہ بحرین میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ برطانیہ کے سیاسی اور فوجی حکام بہت عرصہ قبل اپنے بیانات میں خلیج فارس میں موجودگی کے بارے میں اپنے رجحان کا اظہار کر چکے تھے۔
اس سے بھی اہم نکتہ یہ ہے کہ برطانیہ بھی دوسرے یورپی ممالک کی طرح اپنے ہتھیار فروخت کرنے کے درپے ہے۔ اور اسی صورتحال میں سیکورٹی کے مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا خلیج فارس کے جنوبی ساحلی عرب ممالک میں ان کی فوجی موجودگی اور ہتھیاروں کی فروخت کا بہانہ بن چکی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بحرین میں برطانوی فوجی اڈے کی تعمیر کی اجازت در حقیقت اس ملک میں آل خلیفہ کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سلسلے میں برطانیہ کو خاموش رکھنے کے لئے دی جانے والی قیمت ہے۔ سنہ دو ہزار گیارہ میں بحرین کے عوام کی انقلابی تحریک شروع ہونے کے بعد سے ہی برطانیہ اور امریکہ نے بحرینی عوام کے پرامن مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنانے والی آل خلیفہ حکومت کی حمایت کی ہے۔
ان حالات میں بحرینی عوام کا مظاہرہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس ملک کے عوام بحرین میں برطانوی فوجی اڈے کی تعمیر سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے ناپاک معاہدے کے مخالف ہیں۔ اس جیسے مظاہرے حالیہ برسوں کے دوران بحرین کے ساحلوں پر امریکہ کے فوجی اڈے کے خلاف بارہا کئے جا چکے ہیں۔