سعودی عرب کے کھوکھلے دعوے
سعودی عرب کے کھوکھلے دعوے. آل سعود بھی دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کا دعوی کرنے لگی
سعودی عرب کے وزیر دفاع محمد بن سلمان نے تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف فوجی اسلامی اتحاد کی تشکیل کی خبر دی ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب دہشتگردی کا سبب اور اسے پروان چڑھانے والا ملک ہے۔
آل سعود کے ولی عھد کے جانشین اور وزیر دفاع محمد بن سلمان نے دعوی کیا ہے کہ داعش کے خلاف فوجی اسلامی اتحاد میں چونتیس اسلامی ممالک شامل ہیں۔ محمد بن سلمان نے یہ نہیں بتایا کہ داعش کے خلاف اتحاد میں کونسے ممالک شامل ہونگے لیکن یہ ضرور کہا کہ اس کا مشترکہ کنٹرول روم ریاض میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک اپنی توانائیوں کی بنیاد پر اس اتحاد میں شرکت کریں گے۔
خام خیالی کے شکار آل سعود کے وزیر دفاع نے اپنے ملک کی جانب سے علاقے میں جاری دہشتگردی کی نظریاتی اور فوجی مدد پر توجہ دئے بغیر کہا ہے کہ اسلامی ممالک مستقل طور پر دہشتگردی کا مقابلہ کررہے ہیں اور ان کے درمیان کسی طرح کی ہماہنگی نہیں پائی جاتی ہے لیکن دہشتگرد گروہوں کی متحدہ کمان ہے۔ریاض ایسے حالات میں داعش کے خلاف اتحاد کی تشکیل کی بات کررہا ہے کہ حالیہ کئی برسوں سے سعودی عرب کے ہاتھوں میں دہشت گرد گروہوں منجملہ داعش کی لگام ہے۔ سعودی عرب جسے وہابیت اور سلفی نیز تکفیری فکرکا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے دہشتگردوں کو پروان چڑھانے اور دہشتگردی برآمد کرنے والے ملک میں تبدیل ہوچکا ہے۔ سعودی عرب کے درباری وہابی اور سلفی مفتیوں کے فتووؤں اور دہشتگردی کے پھیلاؤ میں چولی دامن کا ساتھ ہے اور تکفیری اور سلفی فکر آل سعود کی شناخت ہے۔
کئی برسوں سے شام و عراق میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کی سرگرمیاں اوربے گناہ مردوں اور عورتوں کا قتل عام وہابیت اور سلفی فکر کا ہی شاخسانہ ہے۔ سعودی عرب دہشتگردی کا براہ راست نظریاتی اور مالی حامی ہے اور علاقے کے مظلوم عوام کے قتل عام اور دہشتگردی کے پھیلنے کا ذمہ دار ہے۔ دہشتگرد گروہوں کو وجود میں لانے میں آل سعود کاکردار مکمل طرح سے واضح ہے اور یہ بھی سب پر آشکار ہے کہ وہ ان دہشتگرد گروہوں سے کونسے اھداف حاصل کرنا چاہتا ہے لہذا داعش کے خلاف فوجی اسلامی اتحاد کی تشکل کادعوی کرنا بے معنی بات ہے جو توھم کا شکار آل سعود کو ہرگز حقیقی معنی میں دہشتگردی کا مقابلہ کرنے والے ملکوں میں شامل نہیں کرسکتی۔ شام و عراق اور یمن میں سعودی عرب اور اسکے حامیوں کی کارکردگی جس اتحاد کا وہ دعوی کررہا ہے مطابقت نہیں رکھتی۔ ماضی کے تجربوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ داعش کے خلاف سعودی عرب کے حامی ملکوں کے درمیان نہ اتحاد پایاجاتا ہے اور نہ ہی منصوبہ بندی اور ہماہنگی اور مشترکہ فوج کی تشکیل کا دعوی تو دور کی بات ہے۔ یمن میں آل سعود کے اتحاد سے صاف ظاہر ہے کہ نو ماہ گذرنے کے باوجود بھی آل سعود اور اسکے اتحادی بیچارے اور بوکھلائے ہوئے ہیں۔ یاد رہے سعودی عرب نے وعدہ کیا تھا وہ چند دنوں میں یمن میں اپنے اھداف حاصل کرلے گا۔ یمن پر آل سعود اور اسکے اتحادیوں کی جارحیت سے ثابت ہوتا ہے کہ داعشی دہشتگردی کے خلاف آل سعود کا نمائشی اتحاد زبانی دعوؤں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوگا اور عملی طور سے بھی وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کیونکہ سعودی عرب نے خود داعش کو جنم دیا ہے اور اس کے خلاف اتحاد کا دعوی کرنا رائے عامہ کا مضحکہ اڑانا ہے۔