ہندوستان؛ لوک سبھا میں ایک بار پھر شدید ہنگامہ آرائی
ہندوستان کی لوک سبھا میں آج پھر شدید ہنگامہ رہا جس کے بعد لوک سبھا کی کارروائی نو مارچ تک کے لئے ملتوی کر دی گئی-
سحرنیوز/ہندوستان: لوک سبھا کے بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں ایوان کے اندر اور باہر زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ پہلے لوک سبھا کی کارروائی دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کی گئی، تاہم ہنگامہ جاری رہنے کے سبب اسے نو مارچ تک، یعنی بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ جمعہ کے روز بھی کارروائی کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے استعفے کا مطالبہ اٹھایا۔ اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص کانگریس اور چند دیگر پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ نے ایپسٹین فائل سے جڑے معاملے کو لے کر پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دروازہ کے قریب جمع ہو کر مظاہرہ کیا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اپوزیشن کا الزام ہے کہ وزیر ہردیپ سنگھ پوری کا نام امریکی شہری جیفری ایپسٹین سے جڑا ہوا ہے۔ کانگریس نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ وزیر نے مبینہ طور پر امریکہ کے ایک ایسے شخص سے کئی مرتبہ ملاقات کی جس پر کمسن بچیوں کے جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات عائد تھے، جو ملک کے لیے شرمناک بات ہے۔ پارٹی نے کہا کہ اس معاملے میں وزیر کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔