ترکی حکومت کی متضاد پالیسیاں
-
ترکی حکومت کی متضاد پالیسیاں
ترک حکومت کی متضاد پالیسیوں پرترک قوم اور علاقے کی اقوام کی برہمی
ترک وزیر اعظم احمد داود اوغلو نے روس کے ساتھ اپنے ملک کی کشیدگی کو ترکی کے بدترین بحران سے تعبیر کیا ہے۔
روس نے دبے الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ترکی روس کی تین شرطیں قبول کرکے یہ بحران یا ڈراونا خواب ختم کرسکتا ہے۔ ان تین شرطوں میں روس سے سرکاری طور پر معافی مانگنا، تاوان ادا کرنا اور روسی جنگی طیارے کو مارگرانے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا۔
ان شرطوں کی طرح ہی مئی دوہزار دس میں ترک جہاز مرمرہ پر صیہونی حکومت کے حملوں کےبعد انقرہ نے اسی طرح کی شرطیں لگائی تھیں لیکن صیہونی حکومت نے ترکی کی ایک شرط نہیں مانی تھی۔
اس کے باوجود ترک حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا اسکے لئے ترجیحی حیثیت رکھتا ہے ہرچند گذشتہ پانچ برسوں میں صیہونی حکومت کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں بے پناہ فروغ آیا ہے۔
اس مرتبہ حکومت انقرہ، روس کے ساتھ اپنے تعلقات میں بحران کی طرف اشارہ کرکے کھ رہی ہے کہ اگر اس پر ایک دروازہ بند ہوگا تو دوسرا کھل جائے گا ہرچند یہ دروازہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات ہی کا کیوں نہ ہو۔
اسی مسئلے کی وجہ سے بہت سے سیاسی حلقے خاص و عام کو خارجہ پالیسی میں ترکی کے تضادات کی طرف متوجہ کررہے ہیں۔
ترک وزیر اعظم ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ وہ روس کی شرطیں قبول نہیں کرسکتے اور اس کی دلیل یہ لاتے ہیں کہ انہیں اپنی ارضی سالمیت کا دفاع کرنے کا مکمل حق حاصل ہے حالانکہ بہت سے سیاسی حلقوں کا کہنا ہےکہ یہ بات قابل قبول نہیں ہےکہ ترکی اپنی ارضی سالمیت کے دفاع کے بہانے عراق یا پھر قبرص اور یونان کی حدود کی خلاف ورزی کرے۔
ترکی ایسے حالات میں روس کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا دعوی کررہا ہے کہ اس نے اس وقت مختلف بہانوں سے اپنے سیکڑوں فوجی شمالی عراق کی طرف بھیج رکھے ہیں۔
ترکی کی پالیسی میں ایک اور تضاد جس پر بعض سیاسی مبصرین نے توجہ کی ہے فلسطینیوں کے حقوق پر زور دینا ہے۔
ترکی نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ کسی نہ کسی طرح عالم اسلام کی رہبری کا کردار ادا کریے اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
موجودہ حالات میں ترکی نے علاقے میں اختلافات کی آگ بھڑکا دی ہے اور عراق و شام میں نہایت منفی کردار ادا کررہا ہے اور عملا فلسطین کی مزاحمت کی نابودی کے لئے قدم اٹھا رہا ہے۔ دراصل یہ تضاد اس وقت زیادہ واضح ہوگئے تھے جب عدل و انصاف پارٹی کی حکومت ملک میں استحکام اور امن و امان قائم کرنے کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں پہنچی تھی۔ ایسے حالات میں جبکہ ابھی علاقے میں ترکی کے ہاتھوں روسی جنگی طیارے کے مارگرائے جانے کے آفٹر شاکس محسوس کئےجارہے ہیں ترکی کی جانب سے شمالی عراق میں سیکڑوں فوجیوں کا بھیجنا جو بذات خود علاقے میں بحرانوں کا موجب بن سکتا ہے امن و استحکام قائم کرنے کے انقرہ کے دعووؤں کے بالکل برخلاف ہے۔
ترک حکومت کی کارکردگی میں تضادات ترک رائے عامہ کے لئے بھی قابل فہم نہیں ہیں کہ کس طرح سے ان کی حکومت اور حکام مشرق وسطی کی سطح پر اس طرح کی مہم جوئیوں میں ملوث ہیں جن سے علاقائی سطح پر رائے عامہ ناراض ہوتی جارہی ہے اور یہ لوگ کس طرح سے علاقے میں عثمای سلطنت کے احیاء کے دعویدار ہیں۔