Feb ۲۹, ۲۰۱۶ ۱۱:۲۳ Asia/Tehran
  • سعودی عرب عوام کے مقابل

سعودی عرب دہشتگردی اور جاسوسی کے حربوں سے عوام کو کچل رہا ہے۔

سعودی عرب لوگوں کو تخریب کار قرار دے کراپنی داخلی صورتحال کو شکست و ریخت سے بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ آل سعود کی حکومت وقتا فوقتا دہشتگردوں سے تعاون کرنے والے افراد کی فہرست جاری کرتی رہتی ہے لیکن اس مرتبہ اس نے بہت سے شہریوں پر جاسوسی کا الزام بھی لگایا ہے۔ برطانوی اخبار انڈی پینڈینٹ نے لکھا ہے کہ آل سعود کی عدالت بتیس افراد پر مقدمہ چلا کر عوام کی معاشی مشکلات اور یمن میں بے سود جنگ سے رائے عامہ کو منحرف کررہی ہے۔ آل سعود کے اٹارٹی جنرل ان بتیس افراد کے لئے موت کی سزا کا مطالبہ کرنے والے ہیں لیکن ان ملزموں کے قریبی افراد اور شیعہ مسلمانوں کا کہنا ہےکہ ان افراد کو سیاسی مقاصد کےتحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اس اخبار کے بقول سعودی عرب ایسے عالم میں فرقہ واریت سے نفرت کا اظہار کررہا ہے اور دوسروں کوفرقہ واریت کا ذمہ دار ٹہرا رہا ہے کہ اس نے شیعہ مسلمانوں کو غربت کا شکار بنا رکھا ہے اور یہ بتیس افراد جن پر مقدمہ چلایا جارہا ہے ان میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے شاہ عبداللہ کی موت کے بعد داخلی اور خارجہ سطح پر غیر ذمہ دارانہ اور مہم جوئی پر مبنی پالیسیاں اپنا رکھی ہیں۔سعودی عرب شاہ سلمان کے دور میں جو فرتوت اور بیمار ہوچکے ہیں داخلی بحران اور ناکام خارجہ پالیسیوں میں گرفتار ہوچکا ہے۔ حکومت کی طرف سے سبسیڈیز کا ختم کیا جانا، مہنگائی میں اضافہ اور تیل کی قیمتوں میں کمی آنے سے نیز آل سعود کے حکام کی مہم جوئیوں کے نتیجے میں معاشی بحران میں شدت آنے سے سعودی عرب میں داخلی صورت حال کو بارود کے ڈھیر سے تعبیر کیا جارہا ہے اور ہر لمحہ سعودی عرب میں سول نافرمانی کا امکان رہتا ہے۔آل سعود کی حکومت کا اقتدار بہت کھوکھلا ہے اور اس ملک کے اندر ہی اسے گرانے کی کوششیں ہورہی ہیں اور عوام حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

سعودی عرب کو جنگ یمن میں شکست ہوئی ہے اور شام میں اپنے سیاسی اھداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا اور تیل کے میدان میں مہم جوئی میں بھی اسے شکست ہوئی ہے اسی وجہ سے وہ بعض لوگوں پر جاسوسی کا الزام لگارہا ہے۔ اس سے قبل آل سعود نے چالیس افراد پر جاسوسی کا الزام لگا کر انہیں پھانسی دی تھی اور اس اقدام کے ساتھ ساتھ مخالفین کی رائے عامہ کو کنٹرول کرنے کےلئے ان کے لیڈر کو پھانسی کی سزا دے کے شہید کردیا۔شیعہ مسلمانوں کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر مشرقی سعودی عرب میں آل سعود کے خلاف عوامی احتجاج کے رہنما تھے اور آل سعود انہیں اپنی آنکھ کا کانٹا سمجھتی تھی۔ سعودی عرب یمن میں نہتے عوام کے قتل عام اور دہشتگردی کی کھلم کھلا حمایت کی وجہ سے عالمی رائے عامہ کے دباؤ میں تھا، آل سعود نے شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا دے کر شہید کرکے اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن بری طرح ناکام رہی، واضح رہے مغرب نے سب سے پہلے شیخ باقر النمر کی پھانسی کی مذمت کی اور اب چونکہ میڈیا پر آل سعود کا مکمل کنٹرول ہے لھذا وہ جاسوسی کے نیٹ ورکوں کوتوڑنے کے جذباتی دعوے کرکے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس طرح اپنے لئے عارضی طور پر تحفظ فراہم کررہی ہے۔