لبنان میں آل سعود کی فتنہ انگیزیاں
ریاض لبنان پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ بڑھا کر لبنان کے بحران میں شدت پیدا کرنا چاہتا ہے
لبنان میں سعودی عرب کی طرف سے مہم جوئی کی نئی لہر کے دو ہفتے بعد حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ریاض لبنان پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ بڑھا کر لبنان کے بحران میں شدت پیدا کرنا چاہتا ہے ۔سید حسن نصراللہ نے گزشتہ رات لبنانی فوج کو مسلح کرنے کے حوالے سے دی جانے والی مالی امدار کو بند کرنے کی سعودی سازش کا زکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض علاقے میں اپنی پالیسیوں کی ناکامیوں کے بعد لبنان کے بعض داخلی گروہوں کو ساتھ ملا کر لبنان کے بحران میں شدت لانے کے لئے حالات کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتا ہے ۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے سعودی شہریوں کے لبنان آنے پر پابندی،خلیج فارس کے ممالک کے شہریوں کو لبنان میں اپنی پراپرٹی بیچنے اور اس ملک سے نکل جانے کی ترغیب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب مختلف ہتھکنڈوں سے اس بات کی کوشش کررہا ہے کہ صیہونی حکومت کی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہوکر لبنانی معاشرے میں اختلاف پیدا کرے اور اپنے ہم خیال گروہوں کو ساتھ ملا کر لبنان کے حکومتی امور کو اپنی مرضی کے تابع کرے۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ کی طرف سے سعودی عرب کے تخریبی کردار کے برملا ہونے کے بعد لبنان کے سابق صدر امیل لحود نے بھی اس سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے لبنان کے خلاف حالیہ اقدامات علاقے بالخصوص شام میں اسکی ناکامیوں کا ردعمل ہیں۔ امیل لحود نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ سعودی عرب اور صیہونی حکومت کو شام کے حوالے سے سخت نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اب وہ لبنان میں فتنہ انگیزیوں پر اتر آیا ہے ۔
لبنان کے اعلی حکام اور شخصیات ایسے عالم میں سعودی عرب کی طرف سے رچی جانے والی سازشوں اور فتنوں کے حوالے سے خبردار کررہی ہیں کہ آل سعود کی طرف سے لبنان کے داخلی مسائل میں بے جا مداخلت اور تکفیری گروہ کی مسلسل حمایت کی وجہ سے لبنان گزشتہ دو سال سے صدر کے انتخاب کے حوالے سے سخت سیاسی بحران کا شکار ہے جسکی وجہ سے اس ملک کے عوام اور حکومت کو شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔
لبنان میں سعودی عرب کی مداخلت کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اس بار لبنان میں فتنہ پیدا کرنے کے حوالے سے سعودی مداخلت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ سعودی عرب کے بعض ہم خیال لبنانی گروہ بھی اس پر تنقید کررہے ہیں اور اس بات پر تاکید کررہے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو لبنان کی موجودہ حکومت سقوط کرجائیگی۔
اگرچہ سعودی عرب کی مداخلتوں کا سلسلہ لبنان تک محدود نہیں ہے لیکن یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ لبنان میں بدامنی اور افراتفری کی وجہ سے دوسروں سے بڑھ کر سعودی عرب کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا بالکل اسی طرح جسطرح یمن اور شام میں ناکامیاں اسکی منتظر ہیں۔
یمن پر جارحیت اور شام و عراق میں دہشتگردوں کی حمایت سے نہ صرف سعودی عرب کے مذموم مقاصد پورے نہیں ہوئے ہیں بلکہ ان اقدامات سے سعودی حکمرانوں کی علاقائی اور عالمی ساکھ برباد ہوئی ہے اور انہیں شرمندگیوں کا سامنا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ لبنان کی سیاسی اور مذہبی شخصیات نے حالیہ دنوں میں لبنانی عوام کو خبردار کرتے ہوئے سعودی عرب کی سازشوں اور فتنہ انگیزیوں کے مقابلے میں ہوشیار رہنے کی تاکید کی ہے ۔
لبنان کی سیاسی اور مذہبی شخصیات نے تمام سیاسی،مذہبی اور معاشرے کے موّثر افراد سے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان اور لبنانیوں کی حمایت کی جائے اورایسے تمام اقدامات کا مقابلہ کیا جائے جس سے لبنان میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑک سکتی ہے ۔