بحرینی حکومت پر اقوام متحدہ کی تنقید
اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بحرینی حکام اس ملک میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
میشل فورسٹ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بحرینی حکومت کی اس پالیسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی باشندوں کی شہریت ختم کرنا وہ طریقہ ہے کہ جو آل خلیفہ حکومت شہریوں کو سزا دینے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے تاکہ وہ اپنے بنیادی حقوق حاصل نہ کر سکیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ بحرینی حکومت نے اس سلسلے میں دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے، ایک طرف تو وہ دوسرے ملکوں کے باشندوں کو اپنے ملک کی شہریت دے رہی ہے اور دوسری جانب وہ اپنے ملک کے باشندوں کی شہریت ختم کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر نے جمعیت الوفاق کے سربراہ شیخ علی سلمان کی قید جاری رہنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ بحرین کے عوام ملک کے مخلتف شہروں میں مظاہرے کر کے سیاسی قیدیوں کی آزادی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔
اسی سلسلے میں ہزاروں بحرینی افراد نے ملک کے مختلف علاقوں خاص طور پر دارالحکومت منامہ میں جمعہ کے روز بھی مظاہرے کر کے سیاسی قیدیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے چودہ فروری کی انقلابی تحریک کے رہنماؤں سمیت تمام سیاسی کارکنوں کی آل خلیفہ حکومت کی جیلوں سے فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
بحرین میں چودہ فروری دو ہزار گیارہ سے آل خلیفہ حکومت کے خلاف عوام کی انقلابی تحریک جاری ہے۔ بحرینی عوام اپنے ملک میں آزادی، عدل و انصاف کے قیام، امتیازی سلوک کے خاتمے اور ایک منتخب عوامی حکومت کے برسراقتدار آنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بحرینی حکومت نے عوامی اعتراض اور احتجاج کی لہر کو روکنے کے لیے بہت سے سیاسی کارکنوں، شہریوں اور نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے اور وہ انھیں طویل مدت قید کی سزائیں دے رہی ہے۔
بحرین میں آل خلیفہ حکومت نہ صرف آزادیوں کو وسیع پیمانے پر پامال کر رہی ہے بلکہ سرگرم سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو بھی بڑی تعداد میں گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت مخالف گروہوں اور تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے جس سے بحرینی حکومت کی استبدادی ماہیت پہلے سے زیادہ آشکار ہو کر سامنے آ گئی ہے۔
بحرین میں آل خلیفہ حکومت کے ہاتھوں انسانی حقوق اس قدر پامال ہو رہے ہیں اور انسانی حقوق کی صورت حال اس قدر تشویش ناک ہے کہ ہر دیکھنے والا پہلی ہی نظر میں متوجہ ہو جاتا ہے اور اس پر اپنی نفرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ مسئلہ بحرین کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور وفود کی رپورٹوں میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تازہ ترین صورت حال کے بارے میں پیش کی گئی تازہ ترین رپورٹیں دو ہزار سولہ میں بحرین میں حالات مزید خراب اور تشویش ناک ہونے کی عکاسی کرتی ہیں۔
آل خلیفہ کی شاہی اور ڈکٹیٹر حکومت تشدد آمیز اقدامات میں تیزی لا کر بحرینی عوام کو خاک و خون میں غلطاں کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شہریت ختم کر کے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کر رہی ہے کہ جو اس کی استبدادی ماہیت کی عکاسی کرتی ہے۔
بحرین کی آل خلیفہ حکومت ہر پالیسی، اقدام اور ہتھکنڈا استعمال کر رہی ہے تاکہ عوامی تحریک کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ مخالفین کو ملک کے سیاسی و سماجی میدان سے باہر نکال سکے اور مخالفین کی شہریت کو ختم کرنے کی پالیسی کا اسی تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ بحرینی عوام کی شہریت کو ختم کرنا اور غیرملکی باشندوں کو بحرین کی شہریت دینا سیاسی مقصد کے تحت انجام پا رہا ہے کہ جس کا مقصد اس ملک میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔
آل خلیفہ حکومت کی یہ پالیسی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی حکومت کے اقدامات کی یاد دلاتی ہے۔ بحرینی حکومت بھی صیہونی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غیرملکی باشندوں کو بحرین میں لا کر انھیں اس ملک کی شہریت دے رہی ہے جبکہ اس ملک کے اصلی باشندوں کی شہریت ختم کر کے انھیں ملک سے نکال رہی ہے۔ آل خلیفہ کی شاہی حکومت کے یہ اقدامات انسانی حقوق کے معیارات کی کھلی خلاف ورزی شمار ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ بحرینی حکومت کی انسانی حقوق کے میدان میں کارکردگی دنیا میں اس سلسلے میں ایک سیاہ ترین کارکردگی ہے۔