جان کیری کا دورۂ سعودی عرب
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شام کی صورتحال کے بارے میں خطے کے ممالک کے حکام کے ساتھ تبادلۂ خیال کے لئے جمعرات کی شام کو چند ممالک کے اپنے دو روزہ دورے کا آغاز کیا۔
سب سے پہلے وہ جمعے کے دن سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچے۔ جان کیری ریاض پہنچنے کے بعد حفر الباطن کے علاقے میں واقع ملٹری کالونی شاہ خالد گئے۔ جان کیری نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اب وقت آگیا ہےکہ شام اور یمن میں لڑائی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اقدام انجام دیا جائے۔
ایسا نظر آتا ہے کہ بحران شام کے حل کے لئے کی جانے والی کوششوں میں تیزی آنے اور اس سلسلے میں سیاسی سمجھوتے تک رسائی کے پیش نظر جان کیری کا دورۂ سعودی عرب بہت اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ اور روس کے درمیان شام میں جنگ بندی کے بارے میں ہونے والے معاہدے کے بعد ریاض اور واشنگٹن کے درمیان مشاورت میں تیزی پیدا ہوگئی ہے۔ امریکہ اور روس کے درمیان شام میں جنگ بندی سے متعلق ہونے والے سمجھوتے پر عملدرآمد شروع ہوئے تقریبا تین ہفتے گزر رہے ہیں اور شام کی حکومت اور مخالفین کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بھی چودہ مارچ سے ہونے والے ہیں۔
سعودی حکام جنگ بندی پر عملدرآمد کے باوجود شام کے قانونی صدر بشار اسد کی برطرفی کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ احرار الشام اور جیش الاسلام جیسے مسلح گروہوں کانام دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کیا جائے۔ دریں اثناء ریاض نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے اپنے لڑاکا طیارے ترکی کی اینجرلیک ایئربیس میں بھیجے ہیں اور وہ بعض دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر شام میں زمینی فوجی کارروائی کی ضرورت کی بات بھی کر رہا ہے۔ لیکن امریکہ کا اس سلسلے میں اپنا الگ موقف ہے اور روس کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے پیش نظر وہ سعودی حکام کے موجودہ موقف کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا ہے۔ البتہ یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہئے کہ شام کے بحران کے بارے میں ان دونوں ممالک کے ظاہری اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات بدستور قائم ہیں اور امریکہ فوجی اور سیکورٹی کے لحاظ سے سعودی عرب کا سب سے بڑا حامی شمار ہوتا ہے۔
جان کیری اور سعودی عرب کے حکام کےدرمیان اٹھائے جانے والے ایک اور مسئلے کا تعلق یمن سے ہے۔ سعودی عرب نے مارچ سنہ دو ہزار پندرہ میں یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی کے اس ملک سے فرار اور ان کی جانب سے یمن کے سابقہ حکمرانوں کو دوبارہ اقتدار میں واپس لائے جانے کی درخواست کے دعوے کے ساتھ اس ملک میں فوجی مداخلت کی۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے یمن پر بمباری کی اور دوسرے مرحلے میں جنوبی یمن میں زمینی فوجی مداخلت کی۔ سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں کے مسلسل حملوں میں یمن کے ہزاروں عام شہری شہید اور زخمی ہوگئے اور اس غریب ملک کو اربوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔ لیکن اس کے باوجود سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن میں اپنی فوجی مداخلت کا کوئی مقصد حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ بحران یمن کے سلسلے میں امریکہ کی جانب سے ریاض خفیہ اور علانیہ حمایت کے باوجود سعودی حکام یمن میں اب بند گلی میں پہنچ چکے ہیں۔
جان کیری اور سعودی حکام کے مذاکرات میں اٹھائے جانے والے ایک اور مسئلے کا تعلق ایران کے سلسلے میں امریکہ کے رویئے سے ہے۔ سعودی حکام نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے عملدرآمد شروع ہونے کے بعد ایران کے بارے میں مخاصمانہ پالیسی اختیار کر لی ہے اور وہ تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایران کو الگ تھلگ کرنے اور علاقائی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات ختم یا کم کرنے کے لئے بھرپور تگ و دو کر رہے ہیں۔ البتہ ان کو اپنے اس مقصد میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔