Mar ۲۷, ۲۰۱۶ ۱۵:۳۸ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کا ناکام ڈیسائسیو سٹورم آپریشن

یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی لڑاکا طیاروں کے حملے جاری ہیں۔

سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں نے جنوب مغربی یمن میں واقع صوبۂ تعز پر حملہ کر کے دس افراد پر مشتمل ایک خاندان کا قتل عام کردیا ہے۔ سعودی عرب نے پچیس مارچ سنہ دو ہزار پندرہ سے یمن کے مختلف علاقوں میں ڈیسائسیو سٹورم ( Decisive Storm) نامی آپریشن شروع کر رکھا ہے جو ابھی تک جاری ہے جس کے نتیجے میں روزانہ خواتین اور بچوں سمیت متعدد بے گناہ یمنی شہری شہید ہو جاتے ہیں۔ یمنی شہریوں کے قتل عام کے علاوہ اس غریب عرب ملک کو ماضی سے زیادہ اب غربت اور بحران کا سامنا ہے۔ سعودی اتحاد کے حملوں میں یمن کی بنیادی تنصیبات بھی تباہ ہوچکی ہیں اور سعودی عرب کا یہ جنوبی ہمسایہ ملک آل سعود کے مظالم کی نمائش میں تبدیل ہو چکا ہے۔

سعودی عرب کی حکومت نے امریکہ اور خطے کے بعض دوسرے ممالک کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد یمن پر فضائی حملے شروع کئے اور ایک سال گزرنے کے بعد یمن میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کی بنا پر آل سعود کو سوائے ذلت و رسوائی کے اور کچھ نصیب نہیں ہوا ہے۔

یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک حوثی کے مطابق یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت امریکہ اور اسرائیل کے تعاون کے ساتھ شروع ہوئی جو دنیا میں سب سے بڑے مجرم اور ظالم ملک ہیں۔

عبدالملک حوثی نے یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کو ایک سال مکمل ہونے کی مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کی جارحیت کی حمایت کئے جانے کا مقصد یمن کی تباہی و بربادی اور اس ملک میں خانہ جنگی شروع کروانا تھا۔ یمن کی عوامی انقلابی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ سعودی عرب ڈیسائسیو سٹورم ( Decisive Storm) آپریشن کے ذریعے خطے میں کردار ادا کرنا چاہتا تھا لیکن اب وہ دنیا میں ایک مجرم اور ظالم کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

سعودی عرب یمن میں جنگ شروع کر کے سیاسی مقاصد کے حصول کے درپے تھا اور وہ ایک موثر ملک کا کردار ادا کرنے کے علاوہ یمن میں اپنے پٹھوؤں کو اقتدار میں لانا چاہتا تھا۔ لیکن وسیع پیمانے پر فضائی حملے انجام دینے اور یمنی شہریوں کو شہید کرنے کے باوجود اسے اس مقصد میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

یمن کو اس وقت بدترین صورتحال کا سامنا ہے اور اس انسانی المیے میں مسلسل شدت پیدا ہو رہی ہے۔ یمن کے بے گناہ افراد کو غذائی اور طبی اشیا کی قلت کا سامنا ہے۔ سعودی عرب کی جنگ پسندی کی وجہ سے فوڈ سیکورٹی اور علاج معالجے کے مسائل یمن کے ثابت قدم عوام کے لئے چیلنج بن چکے ہیں۔ یونیسف کے بیان کے مطابق سعودی عرب کے حملے جاری رہنے اور ہزاروں یمنی شہریوں کے قتل عام کی وجہ سے یمن میں انسانی المیہ شدت اختیار کر گیا ہے یہاں تک کہ اس ملک کے نوے فیصد بچوں کو انسان دوستی پر مبنی فوری امداد کی ضرورت ہے۔

یونیسف نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دنیا کے بعض ممالک نے سعودی عرب کی جارحیت کی حمایت اور اپنے اس اقدام کے منفی نتائج کو نظر انداز کر کے بحران یمن میں شدت اور لاکھوں یمنی باشندوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے عمل میں شرکت کی ہے۔