بحرینی وزیر خارجہ کا ایران مخالف بیان
بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد آل خلیفہ نے الزام لگایا ہے کہ ایرانی حکام نے اپنے اشتعال انگیز بیانات سے بحرینی حاکمیت کو نشانہ بنایا ہے۔
شیخ خالد بن احمد آل خلیفہ نے العربیہ ٹی وی سے جمعرات کو نشر ہونے والے اپنے انٹرویو میں، اسی کے ساتھ کہا کہ علاقے میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور ہورہی ہیں ان کے باوجود ایران ہمارا ہمسایہ ہے اور اس کے ساتھ ہمارا تعاون ہے۔
ایران اور خلیج فارس علاقے کے بعض عرب ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور اس کشیدگی کی وجہ کچھ غلط فہمیاں اور بعض علاقائی عناصر اور بیرونی مداخلت پسندوں کی طرف سے کی جانے والی اشتعال انگیزی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خارجہ پالیسی میں واضح اصول رکھتا ہے جو مظلوموں کے حقوق کے دفاع، قوموں کے حقوق کے احترام اور آزادی و خود مختاری کی بنیاد پر استوار ہیں لیکن سعودی عرب اور بحرین جیسی دوسروں پر منحصر حکومتیں اپنے دعووں کے برخلاف علاقے میں بحران پیدا کرنے اور اپنی قوموں کے جائز مطالبات سے مقابلے نیز اسرائیل کے مقابلے میں عالم اسلام کو کمزور کرنے کے راستے پر گامزن ہیں۔ خلیج فارس تعاون کونسل اور عرب لیگ نے گزشتہ مہینے سعودی عرب کی ایما پر مزاحمتی تحریک حزب اللہ کو، جو اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کررہی ہے، دہشت گرد گروہ قرار دیا تھا۔
سعودی عرب کی پالیسیاں، جو خلیج فارس کے عرب ممالک میں ایک طرح سے مسلط کی جاتی ہیں اور جن پر عمل درآمد کی ہدایات جاری ہوتی ہیں، در حقیقت اجتماعی مفادات سے تضاد رکھتی ہیں کیونکہ یہ خطے کے ممالک کے درمیان تعاون اور اتحاد و یکجہتی کے راستے میں حائل ہیں۔ یہ پالیسیاں کسی بھی طرح خطے کے مشترکہ مفادات میں نہیں ہیں بلکہ صرف اور صرف اسرائیل کے مفاد میں ہیں۔ سعودی عرب کی پیروی کرتے ہوئے بحرینی وزیر خارجہ کا ایران مخالف بیان اسی تناظر میں قابل غور ہے۔
بہت سے سیاسی ماہرین کے مطابق سعودی عرب خلیج فارس تعاون کونسل اور عرب لیگ پر مسلط ہوچکا ہے اور اس نے عرب ممالک کو صیہونی حکومت کے مفادات کا دفاع کرنے والوں میں تبدیل کردیا ہے۔ اس پالیسی کے سبب مسئلۂ فلسطین کو اب عالم اسلام کے اصل مسئلے کی حیثیت سے فراموش کردیا گیا ہے اور عرب لیگ سمیت عرب اور اسلامی اجلاسوں میں اس بارے میں بات سننے میں نہیں آتی۔
صیہونی حکومت کی دھمکیوں اور سازشوں کی طرف سے ریاض کی بے توجہی کی وجہ سے عالم اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے جو خطے کی سلامتی اور استحکام کے لئے مفید نہیں ہے۔ اس کا ایک نمونہ یمن پر جاری سعودی عرب کے وحشیانہ حملے اور شام اور عراق میں داعش اور دیگر تکفیری دہشت گردوں کی حمایت ہے۔
ان حقائق کے پیش نظر ایران کے خلاف بحرینی وزیر خارجہ کا بیان دو مقاصد کا حامل ہوسکتا ہے۔ پہلا مقصد ایرانو فوبیا میں شدت پیدا کرنا ہے۔ اس طرح کی حرکتیں صیہونی حکومت کے لئے، جومسلمانوں میں تفرقہ اندازی اور علاقے میں بحران پیدا کرنے کے درپے رہتی ہے، ایک موقع شمار ہوتی ہیں۔ دوسرا مقصد بحرینی قوم کے خلاف ظالمانہ اور جارحانہ اقدامات کو جواز بخشنا ہے۔
بحرینی حکام سعودی عرب کے ذریعہ پیدا کئے گئے حالات سے فائدہ اٹھا کر اپنی حکومت کے قبائلی نظریات پر پردہ ڈالنے اور خود کو ہر قسم کی جارحیت اور جابرانہ اقدامات سے مبرا ظاہر کرنے کی کوشش میں ہیں البتہ ایران پر لگائے گئے بحرینی وزیر خارجہ کے الزام سے ان کی مشکلات کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ ان کی مشکل جمہوری نظام حکومت کا فقدان اور انتہا پسندی کے سعودی رویہ کا اتباع ہے۔ اس طور طریقے نے بحرین کو خطرات اور بدامنی سے دوچار کردیا ہے جبکہ ایران علاقے کے لئے کوئی خطرہ شمار نہیں ہوتا۔ ایران اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون اور مفاہمت کا خواہاں ہے لیکن ایران کے بعض ہمسایہ عرب ممالک اس پالیسی کے خلاف چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بحرینی وزیر خارجہ کا بیان در حقیقت اپنے آپ کو اور دوسروں کو فریب دینا ہے۔ بحرینی حکومت سرکوبی پر مبنی اور جارحانہ اقدامات انجام دیتی رہی ہے اور اس طرح کے بے بنیاد الزامات لگا کر حقائق سے دور بھاگنے کی کوشش ہے۔