مغرب کی حمایت سے یمن میں سعودی عرب کے جاری جرائم اور اقوام متحدہ کی ناکامی
ایسے عالم میں جب یمن میں سعودی عرب کے وحشیانہ حملے جاری ہیں ایمنسٹی انٹرنیشل نے یمن میں سعودی عرب کے ہاتھوں کلسٹر بم استعمال کئے جانے کے ثبوت اکٹھا کئے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ یہ بم ایک برطانوی کمپنی نے بنائے اور سعودی عرب کو دیئے ہیں-
سعودی عرب علاقے میں برطانیہ سمیت مغرب کا اتحادی ملک ہے اور اسلحے کی برآمدات برطانیہ سمیت مغربی حکومتوں کا سب سے بڑا ذریعہ آمدنی شمار ہوتی ہے- دو ہزار آٹھ کے کلسٹربموں کے کنونشن کے مطابق کلسٹر بموں کا استعمال ممنوع ہے - دنیا کے ایک سو آٹھ ممالک نے اس کنونشن پر دستخط کئے ہیں اور تقریبا سو ممالک نے اس کو منظوری دی ہے-
بین الاقوامی قانون کی اس دستاویز کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کلسٹر بم استعمال کرنے والے اور برطانیہ اسے بیچنے والے کے عنوان سے یمن میں جنگی جرائم ، امن کے خلاف جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں-
سعودی جارح اتحاد چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کے مظلوم عوام پر زمین اور فضا سے یلغار کئے ہوئے ہے اور میزائلوں اور بموں سے بے گناہ عوام کو نشانہ بنا رہا ہے-
یمنی بچوں اور عورتوں کا وحشیانہ قتل عام اس ملک کی بنیادی تنصیبات کو تباہ و برباد کرنا اور غربت و افلاس نیز غذائی بحران میں شدت پیدا کرنا یمن میں سعودی اتحاد کے جرائم کا ایک پہلو ہے-
ان جرائم میں یمن کے فضائی اور بحری محاصرے کا بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے کہ جس کے نتیجے میں اس ملک کے عوام خاص طور سے یمنی بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں-
جنگ یمن میں ممنوعہ ہتھیاروں سے استفادہ اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے میں اقوام متحدہ کی انتہائی کمزوری و ناتوانی کو ثابت کرتا ہے اور اس ناتوانی اور سعودی عرب کے سامنے اقوام متحدہ کی پسپائی میں گہرا رابطہ ہے-
اقوام متحدہ کے کالے کرتوتوں کے پیش نظر عالمی امن و سلامتی کا یہ نام نہاد محافظ ادارہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کرتا ہے اور یمن کے عوام کی حمایت کرنے کے بجائے سعودی لابی کے زیراثر آکر اپنا موقف تبدیل کر دیتا ہے-
سعودی عرب ، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کی رپورٹ کے مقابلے میں ایسے عالم میں موقف اختیار کرتا ہے کہ یمن میں جنگ چھیڑ رکھی ہے اور جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے جس کا اسے عالمی برادری کے سامنے جواب دینا پڑے گا-
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست سے اس اتحاد کا نام خارج ہونے سے یمن پر سعودی عرب کے حملے تیز ہوگئے ہیں - قابل ذکر ہے کہ ایسی حالت میں جب یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی عرب کی سربراہی میں جارح اتحاد کے جنگی طیاروں اور سعودی ایجنٹوں کے حملے جاری ہیں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے اقوام متحدہ کے لئے امداد روک دینے کی سعودی عرب کی دھمکی کے زیر اثر یمن کے خلاف جارح سعودی اتحاد کا نام بچوں کے حقوق پامال کرنے والوں کی فہرست سے نکال دیا ہے-
اگرچہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے اعتراف کیا ہے کہ فوجی جھڑپوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست سے سعودی اتحاد کا نام عارضی طور پر نکال دیئے جانے کا فیصلہ ایک دردناک اور دشوار فیصلہ تھا جو انھوں نے لیا ہے- لیکن یمن کے حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس طرح کے غیر سنجیدہ فیصلوں کا نتیجہ یمن کے عوام خاص طور سے یمنی بچوں کے مسائل و مشکلات اور رنج و تکلیف میں اضافے کے سوا کچھ نہیں نکلا ہے اور دردناک انجام کا حامل رہا ہے-