متحدہ عرب امارات میں سیاسی کارکنوں کے گرد گھیرا تنگ
خلیج فارس تعاون کی جانب سے حال ہی میں اس تنطیم کے رکن ملکوں میں اخوان المسلمین کی سرگرمیوں کو غیرقانونی قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد متحدہ عرب امارات نے اخوان المسلمین کے مزید کئی افراد کو قید کی سزا دے کر جیل میں ڈال دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی عدلیہ نے منگل کے روز اخوان المسلمین کے رکن ہونے کے الزام میں انیس اماراتی اور یمنی شہریوں کے لیے طویل مدت قید کا حکم جاری کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابوظبی بھی خیلج فارس تعاون کونسل کے دیگر رکن ملکوں کی مانند متحدہ عرب امارات میں اس گروہ کے ارکان کی سرگرمیوں کو سختی سے روک رہا ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں سیاسی گروہ اس ملک میں اخوان المسلمین کے رکن ہونے کے بہانے سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیکورٹی ادارے اخوان المسلمین کی سرگرمیوں کو غیرقانونی قرار دیے جانے کے فیصلے پر عمل درآمد میں سیاسی کارکنوں کے خلاف خطرناک اقدامات کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے علاوہ کویت اور اردن کی حکومتوں نے بھی گزشتہ ہفتوں کے دوران اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے افراد اور گروہوں پر دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے ان کے خلاف اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
اخوان المسلمین کی طرف رجحان رکھنے والے مصر کے منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی کے وقت سے متحدہ عرب امارات سمیت خلیج فارس تعاون کونسل کے چھے رکن ملکوں نے اب تک سینکڑوں افراد کو اس گروہ کے رکن ہونے یا اس کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے، یا ان پر مقدمہ چلایا ہے یا انھیں جلا وطن کیا ہے۔
مصر میں بھی اخوان المسلمین کی سرگرمیوں پر پابندی لگائے جانے کے ساتھ ساتھ اس کے بہت سے رہنماؤں اور ارکان کو گرفتار کر کے ان پر مقدمے چلائے گئے اور انھیں پھانسی کی سزائیں سنائی گئیں۔
درحقیقت اخوان المسلمین کہ جس کے بارے میں توقع کی جا رہی تھی کہ وہ دو ہزار گیارہ میں عرب حکومتوں کے خلاف احتجاج کی فاتح ہو گی، مصر میں فوجی بغاوت اور محمد مرسی کی برطرفی کے بعد دوسرے عرب ملکوں میں مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔
عرب ملکوں میں سرگرم سیاسی کارکنوں کے بقول اخوان المسلمین کی طرف رجحان رکھنے والی مصر کی منتخب حکومت کے خاتمے کے بعد عرب حکومتوں نے عوامی تحریکوں کے اپنے ملکوں میں سرایت کر جانے کے خوف سے سیاسی گروہوں اور کارکنوں خاص طور پر اخوان المسلمین پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب اخوان المسلمین کو مصر میں لگنے والی ضرب کی وجہ سے اب اس میں نہ صرف عرب حکومتوں پر تنقید کرنے کی طاقت نہیں ہے بلکہ اسے عرب حکام کے دباؤ اور شدید اقدامات کا بھی سامنا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ممالک اس جماعت سے خوفزدہ ہیں اور وہ اس کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر کے رائے عامہ کی توجہ موجودہ حقائق سے ہٹانا چاہتے ہیں۔