Jun ۲۶, ۲۰۱۶ ۱۹:۰۳ Asia/Tehran
  • شہدا کے اہل خانہ کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ستّائیس جون کے شہدا اور حضرت زینب علیھا السلام کے روضے کی حفاظت کے دوران شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کے دوران شہدا کے عظیم ایمان، جہاد، شجاعت اور معرفت کو سراہا اور ان کو اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی طاقت اور صلاحیتوں کی بنیادیں قرار دیا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی کہ ایران اسلامی کی ترقی و پیشرفت کا واحد راستہ انقلابی جذبے اور جہاد کا احیا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے سات تیر سنہ تیر سو ساٹھ ہجری شمسی مطابق ستائیس جون سنہ انیس سو اکیاسی عیسوی کے دن جمہوری اسلامی پارٹی کے دفتر میں بم دھماکے کو پینتیس برس کا عرصہ گزرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس ظلم کو ڈھانے والے خبیث اور بے رحم دہشت گرد ملک سے بھاگنے کے بعد برسہا برس سے امریکہ اور مغربی ممالک میں، کہ جو دہشت گردی کے مقابلے اور انسانی حقوق کی حمایت کے علمبردار ہونے کے مدعی ہیں، پناہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ آج دہشت گردی کا دائرہ بہت پھیل چکا ہے اور اس نے مغربی ایشیا سے لے کر مغرب اور امریکہ تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مغرب نے شروع میں منظم دہشت گردی کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے حربہ کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن اب وہ خودانتہاپسندی کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے انسانی اور اسلامی فرض کی بنا پر خطے اور عالم اسلام پر مسلط کئے جانے والے اس ظلم کے خاتمے کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا ہے۔ ایران نے اس سلسلے میں جو اقدامات انجام دیئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے دہشت گرد گروہوں کی حقیقی ماہیت سے پردہ اٹھانے کے مقصد سے خالص اسلامی نظریات کی ترویج میں مدد فراہم کی۔

اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہےکہ امریکہ نے خطے میں اپنی مداخلت کا راستہ ہموار کرنے کے لئے دہشت گردی کی حمایت کی اسٹریٹیجی اختیار کی اور وہ اب تک داعش کی حمایت کے ذریعے اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور مغرب کی دہری پالیسی کے سائے میں ہی دہشت گردی کو بڑھاوا ملا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے داعش جیسے تکفیری دہشت گرد گروہوں کو وجود میں لانے کو اسلامی نظام کے مقابلے کا بدترین نمونہ قرار دیا ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں اہل بیت علیھم السلام کے دفاع اور حضرت زینب علیھا السلام کے حرم مطہر کا دفاع کرنے والے شہدا کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہ تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ ہے کہ ایران اور دوسرے ممالک کے جوان اپنے ایمان اور مضبوط محرک کی بنا پر اپنی زوجہ، چھوٹے بچوں اور آرام دہ زندگی کو خیرباد کہہ کر دوسرے ملک میں جاکر اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور شہادت کےدرجے پر فائز ہوتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ دہشت گرد گروہوں کو وجود میں لانے اور عراق و شام میں ان کے اقدامات کا اصل مقصد ایران پر حملہ کرنا تھا، فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کی وجہ سے ان گروہوں کو عراق اور شام میں منہ کی کھانی پڑی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اس حصے میں ایک کلیدی نکتہ جو بیان فرمایا وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام میں طاقت کے عناصر کی تشریح سے عبارت تھا کہ جن کے ادراک اور فہم سے اسلامی نظام کے دشمن قاصر ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی کہ حقیقت میں مومن و مجاہد انسانوں اور شہدا کے عزم و ارادے اور ایمان پر اعتماد ہی سامراجی محاذ کے ساتھ نابرابر جنگ کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کا سرچشمہ ہے اور اسلام کے دشمن اس طاقت کے اثرات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن وہ اس کی حقیقت کا تجزیہ کرنے سے قاصر ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی کے بیانات سے ایک جانب اسلام دشمنوں کی ماہیت اور ان کے اہداف اور دوسری جانب ان انتہاپسند اور دہشت گرد گروہوں کی ماہیت اور اہداف کی نشاندہی ہوتی ہے کہ جن کو عالمی سامراج کی حمایت کے ساتھ اور اسلام اور اسلامی نظام پر ضرب لگانے کے لئے وجود میں لایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔