مزاحمت و استقامت کو کمزور کرنے کی سعودی عرب کی سازش
سعودی حکومت ، اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کے ساتھ ہی، اسلامی مزاحمت کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے حزب اللہ کا مالی بائیکاٹ کرنے کےلئے امریکہ اور فرانس کے ساتھ بھی تعاون کر رہی ہے-
فلسطینی اخبار المنار نے اتوار کو اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب نے فرانس کے توسط سے، خفیہ طور پر اسرائیل کی پندرہ ارب ڈالر کی مدد کی ہے جس کا زیادہ تر حصہ اسرائیل کے فوجی اخراجات پر صرف کیاگیا ہے۔
اس فلسطینی اخبار نے اپنی رپورٹ میں سن دو ہزار چھے میں لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے وقت بھی ، سعودی عرب کی جانب سے صیہونی حکومت کو دو ارب ڈالر کی امداد دیئے جانے کی جانب اشارہ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل فلسطینی اخبار المنار نے، اس وقت کے سعودی انٹیلی جنس چیف بندر بن سلطان کے دورہ اسرائیل اور صہیونی وزیراعظم ایہود اولمرٹ کے ساتھ ملاقات کا بھی انکشاف کیا تھا۔ سعود عرب، صیہونی حکومت کے علاوہ، کہ جو عالم اسلام اور اسلامی مزاحمت و استقامت کی دشمن نمبر ایک ہے، حزب اللہ لبنان کا مالی محاصرہ کرنے کے لئے واشنگٹن اور پیرس کے ساتھ بھی تعاون کر رہا ہے-
سعودی عرب کے وزیر دفاع محمد بن سلمان نے اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن کے دوران امریکی حکام کے ساتھ ملاقات میں ، حزب اللہ لبنان کا محاصرہ کرنے کے بارے میں بات چیت کی ہے- امریکی حکومت نے حزب اللہ لبنان کے مالی بائیکاٹ کے قانون کو نافذ کردیا ہے- حزب اللہ لبنان کا ایسے عالم میں مالی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے کہ جب یہ تنظیم شامی فوج کے ساتھ مل کر، سعودی عرب ، امریکہ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کر رہی ہے-
شام میں حزب اللہ ملیشیا کے موثر کردار نے، استقامت کے محور کے دشمنوں کے منصوبوں کو خاک میں ملادیا ہے اور شام میں دہشت گرد عناصر بے بس اور بے دست و پا ہوگئے ہیں- سعودی عرب جو ایک اسلامی ملک ہے استقامت کے خلاف امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب کے ایک مثلث میں تبدیل ہوگیا ہے- حزب اللہ لبنان کے مالی بائیکاٹ سے قبل اس گروہ کو سعودی عرب نے ایک دہشت گرد گروہ کی حیثیت سے متعارف کرایا - سعودی عرب کے دباؤ میں آکر ، بعض علاقائی اور عرب حکومتوں اور تنظیموں نے آل سعود کی حمایت میں حزب اللہ کے خلاف موقف اپنایا -
سعودی عرب نے گذشتہ چند برسوں کے دوران اپنے تمام تر وسائل و ذرائع، عالم اسلام کے دشمنوں کے اختیار میں دے رکھے ہیں- امت مسلمہ پر سعودی عرب کے مظالم کے سبب، اسلامی ملکوں میں باہمی اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور بے گناہ مسلمان دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں- امریکہ اور اسرائیل کے لئے سعودی عرب کی کاسہ لیسی نے سعودی حکام کو ، رائے عامہ میں قابل نفرت اور گوشہ نشیں کردیا ہے- حرمین شریفین کے نام نہاد خادم ، عالم اسلام کی حمایت و تعاون کرنے کے بجائے ، مسلمانوں کے دشمن نمبر ایک یعنی صیہونی حکومت کے ساتھ، امت مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر بھونک رہے ہیں-
ان دنوں کہ جب عالمی یوم قدس قریب ہے اور سب مسلمان ایک آواز ہوکر اسرائیل کی جارح حکومت کے مقابلے میں ملت فلسطین اور مزاحمت و استقامت کی حمایت کر رہے ہیں، آل سعود صیہونی دشمن کے ساتھ مل کر استقامت کے محور کو کمزور کرنے میں کوشاں ہے- مزاحمت و استقامت کی مخالفت میں، عالم اسلام کے دشمنوں کے ساتھ سعودی عرب کا تعاون ، کبھی بھی آل سعود حکام کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دے گا اور حزب اللہ عالم اسلام میں ایک نگینے کی مانند چکمتی رہے گی اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے بقول مالی بائیکاٹ اور پابندیاں ، حزب اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی-