Jul ۰۳, ۲۰۱۶ ۱۷:۳۳ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کی جانب سے فرقہ واریت کو فروغ دینے کی جاری کوشش

عراق میں سعودی عرب کے سفیر کا مشن سفارتی سرگرمیوں اور دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں سے ہٹ کر دیگر ملکوں کے تعلقات کو متاثر کرنے اور ان میں اختلافات پیدا کرنے میں تبدیل ہو گیا ہے۔

بغداد میں سعودی عرب کے سفیر ثامر السبہان نے ایسی حالت میں ایک بار پھر ایران کے خلاف فرقہ پرستی پر مبنی موقف اختیار کیا ہے کہ عراقی حکام نے بارہا ان پر تنقید کی ہے اور باضابطہ طور پر ان کو خبردار کیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق میں صرف سفارتی سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔ ثامر السبہان نے ایران اور عرب ملکوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی غرض سے نیا موقف اختیار کرتے ہوئے سعودی عرب کے الاخباریہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران، شیعہ و سنّی کا مسئلہ اٹھا کر عرب ملکوں میں بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عراق میں سعودی عرب کے سفیر نے علاقے میں اپنے ملک کے منفی اور تباہ کن کردار سے چشم پوشی کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ جو کچھ عراق، شام، لبنان اور یمن نیز بحرین میں ہو رہا ہے وہ ایران کی فرقہ پرستانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ بغداد میں سعودی عرب کے سفیر، ایسی حالت میں ایران کے سلسلے میں عالمی رائے عامہ میں غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہابی افکار کے تحت سعودی عرب کی حکومت، بدامنی کی جڑ، دہشت گردی کی کھلی حامی اور سب سے بڑھکر شیعہ و سنّی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والی حکومت بنی ہوئی ہے۔ ریاض کی حکومت نے شام کا بحران شروع ہونے کے بعد اس ملک میں کھلی مداخلت کرتے ہوئے دہشت گردوں کی بھرپور مدد و حمایت کی ہے۔ مختلف علاقوں میں وہابی مدارس، فرقہ واریت کی بنیاد پر انتہا پسندوں کی تربیت کے مراکز بنے ہوئے ہیں۔ ان مدارس سے فارغ ہونے والے افراد دہشت گرد گروہوں کی پہلی صف میں کھڑے ہو کر اپنا منظور نظر اسلام پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں سعودی عرب نے اپنے ملک میں جمہوریت اور عوامی حکومت کے بارے میں فیصلہ کرنے سے متعلق یمنی عوام کے کردار اور حق کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کی خواہش و مطالبے کے مقابلے میں مزاحمت ایجاد کی اور چھبّیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کے مظلوم عوام کی خواہش کا جواب میزائلوں اور مارٹر گولوں سے دیا۔ یمن میں عورتوں اور بچوں کا قتل عام اور اس ملک میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی، علاقے میں سعودی عرب کے تباہ کن کردار کا صرف ایک حصہ ہے، جو اسلامی اتحاد کی حقیقت و ماہیت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ بحرین میں بھی سعودی عرب کی پالیسی، اس ملک کے اکثریتی شیعہ مسلمانوں کے ساتھ تفرقہ اور متعصبانہ رویہ اختیار کئے جانے پر مبنی ہے۔ سعودی فوجی، بحرین کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اس ملک کے پرامن عوامی احتجاجات اور مظاہروں کو کچل رہے ہیں۔ گذشتہ تقریبا پانچ برسوں کے دوران بحرین میں سعودی عرب کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کا سب نے بخوبی مشاہدہ کیا ہے۔ بحرین کی آل خلیفہ حکومت، سعودی عرب کی آل سعود حکومت کی حمایت سے اپنے ملک میں شیعہ اکثریتی مسلمانوں پر ہمیشہ کے لئے اقلیتوں کی حکومت باقی رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ اس کی یہ کوشش مکمل فرقہ واریت کا مظہر ہے۔ عراق میں ثامر السبہان کی موجودہ سرگرمیوں سے اس ملک میں سعودی عرب کے عزائم کی بھی بخوبی نشاندہی ہوتی ہے۔ عراق میں شیعہ و سنّی مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں لا کھڑا کرنا اور اس ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکائے رکھنا بغداد میں سعودی سفیر کو سونپے جانے والے مشن کا اہم ترین حصہ ہے۔ علاقے کے ملکوں کے بارے میں سعودی عرب کی پالیسی، اتحاد و تعاون کے جذبے سے بالکل میل نہیں کھاتی اور اس پالیسی کا مقصد، صرف علاقے کے مختلف ملکوں کے درمیان اختلاف کی آگ بھڑکانا ہے۔ جبکہ ایران کی پالیسی علاقے کے مختلف ملکوں خاص طور سے پڑوسی ملکوں کے ساتھ مفاہمت اور ایک دوسرے کے احترام کی بنیاد پر تعلقات و تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اصولی پالیسی، شیعہ و سنّی مسلمانوں میں اتحاد کے اہم اور حیات بخش اصول کی بنیاد پر عالم اسلام کی طاقت و توانائی کو مضبوط و مستحکم بنانا ہے۔ ایک کلمہ اور مختلف اسلامی مذاہب کے درمیان دوستی کو مستحکم بنانا عالم اسلام سے متعلق ایران کی حقیقی پالیسی کا حصہ ہے اور وہ ہر گز یہ نہیں چاہے گا کہ اس کے مفادات، مذہبی اختلافات اور فرقہ واریت کی آگ کی نذر ہو جائیں یا ان کی بھینٹ چڑھ جائیں۔