Jul ۰۵, ۲۰۱۶ ۱۶:۴۶ Asia/Tehran
  • سعودی عرب میں دہشت گردانہ بم دھماکوں پر ایران کے وزیر خارجہ کا ردعمل

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ اور قطیف میں ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ایسی کوئی ریڈلائن باقی نہیں بچی ہے کہ جسے دہشت گردوں نے عبور نہ کیا ہو۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ دہشت گرد تمام ریڈ لائنوں کو عبور کر چکے ہیں اور موجودہ صورت حال کو ختم کرنے کا واحد طریقہ، عالم اسلام میں اتحاد ہے۔ اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایک بیان میں سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں منجملہ مسجدالنبی کے قریب اور قطیف میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ان حادثات کا شکار ہونے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بارہا اعلان کر چکا ہے کہ دہشت گردی، کسی بھی شکل میں اور کہیں بھی ہو قابل مذمت ہے اور اس لعنت کا خاتمہ کرنے کے لئے تمام ملکوں کی جانب سے ہمہ جہتی مقابلہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔ بہرام قاسمی نے کہا کہ دہشت گردی نے، کہ جس کا اس وقت علاقے میں مشاہدہ کیا جا رہا ہے، اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ قومیت و سرحد کو ہرگز نہیں پہچانتی اور اس لعنت کا واحد حل، اس کے خلاف علاقاقی و عالمی سطح پر متحدہ عملی موقف اختیار کیا جانا ہے۔ واضح رہے کہ پیر کے روز مسجدالنبی اور شہر قطیف میں ایک مسجد کے قریب ہونے والی خودکش کارروائیوں میں متعدد افراد جاں بحق و زخمی ہو گئے۔ ابھی تک کسی نے ان کارروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ان کا ذمہ دار، داعش دہشت گرد گروہ سمجھا جا رہا ہے۔ حزب اللہ لبنان نے مسجدالنبی اور شہر قطیف میں ایک مسجد کے قریب ہونے والے دہشت گردانہ دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے اور اس قسم کے اقدام کو دہشت گردوں کی جانب سے مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی قرار دیا۔ حزب اللہ لبنان نے دہشت گردوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس خطرناک وبا کا مختلف طریقوں اور نہایت مستعدی سے علاج کئے جانے کی ضرورت ہے۔ حزب اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک، جو اب خود بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں، ان کو چاہئے کہ اپنے افکار اور مواقف پر نظرثانی کریں۔ حزب اللہ نے کہا کہ اس وقت علاقے بلکہ پوری دنیا کو کڑی آزمائش اور دہشت گردی کے مشترکہ خطرے کا سامنا ہے جس کے مقابلے میں علاقائی و عالمی سطح پر اختلافات اور جنگ و خونریزی سے دوری اختیار کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے بھی مدینہ منورہ میں مسجدالنبی کے قریب اور شہر قطیف میں ایک مسجد کے قریب ہونے والے دہشت گردانہ دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ عرب لیگ نے بھی ان دہشت گردانہ واقعات کی کڑی مذمت کی ہے۔ عرب لیگ نے اعلان کیا ہے کہ ان دھماکوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ دہشت گردی کا کسی دین و مذہب اور کسی خاص ملک سے کوئی تعلق نہیں ہے اور عرب لیگ، ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت میں اپنے موقف پر قائم ہے اور وہ اپنے اس موقف پر تاکید کرتی ہے۔