بحرینی عوام کے مظاہرے
بحرین میں آل خلیفہ کی ظالم حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ یہ حکومت تشدد کے باوجود عوامی احتجاج کو ختم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔
جمعے کے دن بحرین کے عوام نے اپنے ملک کے ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت کی منسوخی اور اہل تشیع پر تشدد کئے جانے کے خلاف مظاہرے کئے۔
آل خلیفہ حکومت نے بیس جون کو آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت منسوخ کر دی تھی۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب آل خلیفہ حکومت نے حالیہ دنوں کے دوران انسانی حقوق کے تین سرگرم کارکنوں کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا ہے
بحرین کے ہیومن رائٹس واچ کی کوارڈینیٹر جلیلہ السلمان نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا ہے کہ بحرینی حکام نے انسانی وکیل صفائی محمد التاجر ، جمعیت شفافیت بحرین کے سربراہ شرف الموسوی اور بحرین کی جمعیت انسانی حقوق کی رکن زینب خمیس کے اس ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
جمعے کے دن بھی بحرینی روزنامہ نگار احمد رضی کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کر دی اور ان کو اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے۔
بحرین کی حکومت نے اس ملک کی بہت سی سیاسی، سماجی شخصیات اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔
بحرین میں سنہ دو ہزار گیارہ میں عوامی تحریک کے کچلے جانے کے بعد سے پرامن عوامی تحریک کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ملک کے عوام امتیازی سلوک کے خاتمے،سیاسی اصلاحات اور عدل و انصاف کی برقراری کے خواہاں ہیں۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب آل خلیفہ کی حکومت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بحرینی عوام کے مطالبات پورے کرنے کے بجائے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کی مدد سے عوام کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ آل خلیفہ حکومت نے گرفتاریوں، تشدد حتی لوگوں کی شہریت منسوخ کرنے کے ذریعے بحرینی عوام کو اذیت پہنچاتی ہے۔ بحرین سے موصولہ مختلف رپورٹوں سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ آل خلیفہ حکومت نے عوام کے خلاف مختلف طرح کے تشدد میں شدت پیدا کر دی ہے۔ آل خلیفہ حکومت کے رویئے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ بحرینی عوام پر تشدد کرنے کے سلسلے میں کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ آل خلیفہ حکومت نے حالیہ مہینوں کے دوران اپنی تشدد آمیز پالیسیوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر سیاسی گرفتاریاں کیں، مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی شہریت منسوخ کی۔ جس کی وجہ سے اس ملک میں تشویشناک صورتحال اور گھٹن کی فضا وجود میں آچکی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب بحرینی عوام اپنے مطالبات پورے کئے جانے پر زور دے رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بحرین میں چلنے والی عوامی تحریک فرقہ واریت سے بالا تر ایک قومی تحریک ہے ۔ اس ملک کے نہ صرف اہل تشیع بلکہ اہل سنت بھی آل خلیفہ کے ظلم اور امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ آل خلیفہ حکومت نے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی اور عوام کے جائز مطالبات کو پامال کر کے بحرین کو انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزی کے مکان میں تبدیل کر دیا ہے۔ آل خلیفہ حکومت کی کارکردگی سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ آل خلیفہ حکومت تشدد کے مختلف طریقے استعمال کرنے کے سلسلےمیں دوسروں پر سبقت لے گئی ہے اور عالمی سطح پر یہ حکومت بین الاقوامی سطح پر خوفناک اور تشدد کرنے والی حکومت کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔
بحرین کے عوام آل خلیفہ حکومت سے سخت نفرت کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ملکی سطح پر اس حکومت کی پالیسیاں عوام کے سیاسی اور شہری حقوق کی پامالی پر استوار ہیں جبکہ اس کی خارجہ پالیسی خطے میں اغیار کے مفادات کے تحفظ سے عبارت ہے اور اس کا مغرب خصوصا امریکہ سے قریب ہونا بحرین پر ان ممالک کے سیاسی، فوجی اور اقتصادی تسلط پر منتج ہوا ہے۔ ان حالات میں بحرینی عوام نے وزارت داخلہ کی طرف سے مظاہروں پر عائد کردہ پابندی کے باوجود منامہ سمیت پورے ملک میں مظاہرے کئے۔ بحرینی عوام کے مظاہرے جاری رہنے سے ثابت ہوگیا ہے کہ آل خلیفہ حکومت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔