Jul ۱۰, ۲۰۱۶ ۱۸:۳۸ Asia/Tehran
  • سعودی عرب اور دہشتگردی، چولی دامن کا ساتھ

پیرس میں ایم کے او دہشتگرد گروہ کا اجلاس ہوا ہے جس میں سعودی عرب کی انٹلیجنس کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے شرکت کی اور اس اجلاس سے خطاب بھی کی

ا۔سعودی شہزادے کا دہشتگرد گروہ ایم کے او کے اجلاس میں شرکت کرنا اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ دہشتگردی سے ہتھکنڈے کے طور پر استفادہ کرنا اپنے اھداف حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب کی حکومت کی اسٹراٹیجی میں شامل ہے۔

سعودی عرب کے شہزادے ترکی الفیصل نے ایم کے او دہشتگردوں کے اجلاس میں شرکت کرکے اس دہشتگرد گروہ کو جو دسیوں برسوں سے مغربی ملکوں کی حمایت میں سرگرم عمل ہے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کامیابی کے وعدے بھی دئے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایران عرب ملکوں کے مسائل میں مداخلت کررہا ہے لیکن ریاض اس مداخلت پر روک لگائے گا۔ ترکی الفیصل کے گذشتہ روز کے بیان سے دراصل جانے پہچانے دہشتگردوں کے ساتھ سعودی عرب کے گٹھ جوڑ کا پتہ چلتا ہے۔ یہ گٹھ جوڑ دسیوں برس پہلے وجود میں آچکا تھا جب ایم کے او دہشتگرد گروہ نے پہلے ایران اور اس کے بعد عراق میں انسانیت سوز کاروائیاں کی تھیں اور آج یہ گٹھ جوڑ سعودی عرب کی جانب سے تکفیری اور صیہونی دہشتگرد گروہوں کی حمایت کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے کیونکہ آل سعود عراق شام اور لبنان میں تکفیری دہشتگرد گروہوں کی حمایت کررہی ہے۔

ایم کے او دہشتگرد گروہ اور اس کے خفیہ اور اعلانیہ حامیوں کا مشترکہ اجلاس ایسے عالم میں منعقد ہوا ہے کہ بہت سے مغربی ممالک منجملہ فرانس نے دہشتگردی کا تلخ مزہ چکھ لیا ہے اور انہیں دہشتگردی سے جو تشویش لاحق ہے اس کے مطابق یہ ممالک اس بات کا دعوی کررہے ہیں کہ وہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں لیکن عملی طور پر ان کی کارکردگی میں کوئی شفافیت دکھائی نہیں دیتی۔

ان دنوں جو باتیں دہشتگردی سے مقابلے کے بارے میں سنائی دے رہی ہیں وہ ایسی تقسیم بندی کے بارے میں دعوے ہیں جن سے مغربی ملکوں اور ان کے علاقائی اتحادیوں کے دہشتگردی کے مقابلے کے دعوؤں کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ساری دنیا پر یہ واضح ہوچکا ہےکہ آل سعود کی پسماندہ حکومت جو کہ دہشتگرد گروہوں کی سب سے بڑی مالی حامی ہے دہشتگردی کو فروغ دے رہی ہے۔ سعودی عرب کے شہزادے ترکی الفیصل نے پیرس میں ایم کے او دہشتگرد گروہ کے اجلاس سے خطاب میں احادیث اور کچھ سیاسی اور تاریخی مسائل کا سہارا لیا لیکن اس روش سے بھی وہ ریاض کی پالیسیوں کی عوام فریبانہ ماہیت کو چھپانے میں ناکام رہے۔

سعودی عرب کی انٹلیجنس کے سابق سربراہ نے جو باتیں دہشتگرد گروہ ایم کے او سے کیں ان سے معلوم ہوتا ہےکہ سعودی عرب نے ہمیشہ سے وسیع پیمانے پر مالی اور سکیورٹی لحاظ سے دہشتگردی کی حمایت کی ہے۔ جو چیز مسلم ہے کہ وہ یہ ہےکہ سعودی عرب نے علاقے میں اپنی فوجی اور سکیورٹی پالیسیوں کو دہشتگردی کی حمایت پر استوار کیا ہے اور اس خطرناک بدعت سے اس نے علاقے کی سکیورٹی کو چیلنجوں سے روبرو کردیا ہے۔ سعودی شہزادے ترکی الفیصل کے بیان سے جو برسوں سے دہشتگرد گروہوں سے رابطہ رکھنے میں مشہور ہیں ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی انٹلیجنس ایجنسی ایم کے او سمیت مختلف دہشتگردگروہوں سے قریبی تعلقات رکھتی ہے۔سعودی عرب نے دہشتگرد گروہوں کی حمایت کرکے بڑی اسٹراٹیجیک غلطی کی ہے اور اس نے اپنی اس روش سے دوسرے ملکوں کو بھی دہشتگردی میں گرفتار کردیا ہے جبکہ سکیورٹی مختلف مسائل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے اور اس کا تعلق سارے علاقے سے ہے اور دہشتگردی کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرکے دوسرے ملکوں میں بدامنی نہیں پھیلانا چاہیے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ریاض کو اپنے گستاخانہ موقف کا جواب دینا ہوگا کیونکہ وہ اپنے ان اقدامات سے سارے علاقے کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار کردے گا۔