Jul ۱۳, ۲۰۱۶ ۱۹:۱۸ Asia/Tehran
  • بحرینی حکومت کا ایران پر بے بنیاد الزام

بحرینی وزارت داخلہ نے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران پر بحرین کے داخلی امور میں مداخلت کا اپنا بے بنیاد اور گھسا پٹا الزام لگایا ہے۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں دعوی کیا ہےکہ اس ملک میں چند دہشت گرد پکڑے گئے ہیں جن کی ایران کی جانب سے حمایت کی جاتی تھی۔ بحرینی حکام اس ملک کے عوام کے قانونی مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے وقتا فوقتا ایران پر الزام لگاتے رہتے ہیں کہ وہ اس ملک میں عوامی اعتراضات کو ہوا دیتا اور ان کے بقول بحرین میں تخریب کاری پر مبنی اقدامات انجام دیتا ہے۔

چند دن قبل بحرین کے دارالحکومت منامہ کے جنوب میں واقع العکر شرقی نامی دیہات میں بم دھماکہ ہوا۔ بحرین کے ذرائع کے مطابق اس بم دھماکے میں ایک خاتون جاں بحق اور تین بچے زخمی ہوئے ۔ بحرینی وزارت داخلہ اس ملک میں ہونے والے بم دھماکوں میں بزعم خویش ایران کو ملوث جانتی ہے اور اس بات کی مدعی ہےکہ العکر شرقی میں بم دھماکے کے سلسلے میں گرفتار ہونے والوں کا ایران کے ساتھ رابطہ تھا۔

یہ دعوی ایسی حالت میں کیا جا رہا ہے کہ جب اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے بارہا بحرین کے داخلی امور میں مداخلت کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے اور کہا ہے کہ آل خلیفہ حکومت عوام کو کچلنے اور بحرین کے حقائق سے فرار ہونے کے لئے ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات لگاتی رہتی ہے۔

ایران ہمیشہ بحرین کے بحران کے پرامن حل کا خواہاں رہا ہے اور اس نے اعتراض کرنے والوں کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کا دفاع خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کے تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران کی دینی اور انسانی ذمےداری ہے۔

فروری سنہ 2011 سے بحرین میں عوامی انقلابی تحریک شروع ہوئی ہے۔ اس ملک کے انقلابی عوام کا مقصد آزادی کا حصول ، جمہوری حکومت کی تشکیل اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ہے۔ بحرین میں اقلیت کی حکومت اور تمام اہم عہدوں پر آل خلیفہ کی اجارہ داری اس ملک میں بحران جاری رہنے کی اصل وجہ ہے۔ بحرین میں بم دھماکوں اور تخریب کاری کے نام پر جو کچھ انجام پا رہا ہے اس کے اسباب بحرین کے اندر ہی ہیں اور آل خلیفہ کے حکام کو چاہئے کہ وہ ان اسباب کو اپنے ملک کی سرحدوں کے اندر ہی تلاش کریں۔

البتہ اس سے قبل اس بات کی رپورٹیں منظر عام پر آچکی تھیں کہ آل خلیفہ حکومت عوام پر اپنے تشدد میں شدت پیدا کرنے کے درپے ہے۔ ایران پر تخریب کاری کے اقدامات کی حمایت کا الزام لگانا اس ملک کے عوام کے انقلاب کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے سلسلے میں آل خلیفہ حکومت کا اچھا بہانہ شمار ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ حکومت بین الاقوامی برادری کو بھی باور کرانا چاہتی ہے کہ بحرین کے موجودہ حالات کے اسباب اس ملک سے باہر پائے جاتے ہیں۔

بحرین میں جاری بدامنی کے سلسلے میں عالمی برادری کو اپنے ساتھ ملانے پر مبنی آل خلیفہ حکومت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ ہوگا کیونکہ بحرین کے ممتاز عالم دین اور بابائے انقلاب آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت منسوخ کرنے کے صرف ایک ہی واقعے کے خلاف دنیا بھر کی رائے عامہ نے آل خلیفہ کے خلاف اپنی نفرت اور غصے کا اظہار کیا ہے۔

بحرین میں انسانی حقوق کی صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ ایران پر اس ملک کے داخلی امور میں مداخلت کا گھسا پٹا الزام لگا کر آل خلیفہ حکومت اپنا دامن نہیں بچا سکتی ہے ۔ بحرین کے موجودہ حقائق کو تسیلم اور عوامی مطالبات کا احترام کرنا ہی آل خلیفہ حکومت کے سامنے موجودہ صورتحال سے باہر نکلنے کا واحد راستہ ہے۔