آل خلیفہ حکومت کے خلاف بحرینی عوام سراپا احتجاج
بحرین کے شہروں الدراز، سترہ، کرانہ اور دیگر علاقوں میں عوام نے آل حکومت کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت منسوخ کیے جانے اور شیعوں کو نشانہ بنانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
مظاہرین نے آل خلیفہ حکومت کی تشدد کی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بحرینی حکومت فرقہ پرستی کی بنیاد پر عمل کر رہی ہے اور وہ اس ملک کی اکثریت یعنی شیعوں کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے۔ بحرینی عوام نے آل حکومت کے اقدامات کو داعش کے اقدامات سے تشبیہ دی۔
شدید گرمی اور الدراز علاقے کا مکمل محاصرہ ہونے کے باوجود بحرینی عوام آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے گھر کے سامنے بدستور دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ الدراز علاقے میں رہنے والے باشندوں کے علاوہ کسی بھی بحرینی شہری کو اس علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔
بحرین کی سیکورٹی فورسز نے الدراز علاقے کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے گھر کے سامنے مرکزی دھرنا جاری ہے جس میں عوام کے ساتھ ساتھ علمائے کرام بھی شریک ہیں۔ بحرین کے علما نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ شیخ عیسی قاسم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنے دیں گے۔ انھوں نے اس قسم کے اقدام کے نتائج کے بارے میں بحرین کی حکومت کو خبردار کیا ہے۔ بحرین کے ممتاز عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے دباؤ میں اضاقے پر عوامی احتجاج میں شدت آنے کے بعد اس ملک کی سیکورٹی فورسز نے الدراز کے علاقے میں سیکورٹی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔
الدراز کا علاقہ کہ جو آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کا آبائی علاقہ ہے اور اس علاقے میں ان کا گھر واقع ہے، گزشتہ مہینے سے ان کی شہریت منسوخ کیے جانے کے بعد آل خلیفہ حکومت کے خلاف احتجاج کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بحرینی حکومت نے بھی حالیہ دنوں کے دوران لوگوں کو گرفتار اور انھیں کچلنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
آل خلیفہ حکومت اپنے پرتشدد اقدامات کو تیز کر کے بحرینی عوام کو خاک و خون میں غلطاں کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے باشندوں کی شہریت منسوخ کر کے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کر رہی ہے جو آل خلیفہ حکومت کی استبدادی ماہیت کو ظاہر کرتی ہے۔
بحرینی حکومت نے اس ملک کے عوام کو آزادی بیان، پرامن اجتماع اور سیاسی جماعتوں کی تشکیل جیسے تمام حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب بحرین میں حکومت مخالف گروہ اس پرتاکید کرتے ہوئے کہ بحرینی حکومت کی طاقت کے ذریعے عوام کوکچلنے کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے، ملک میں ایک عوامی جمہوری حکومت کے قیام کے لیے عوام خواہش کے پورا ہونے تک اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔
بہرحال آل خلیفہ حکومت کے خلاف احتجاج کو تیز کرنے کے سلسلے میں بحرینی عوام کے عزم نے اس ملک کے حکمرانوں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ عوام کو ڈرا دھمکا کر اور انسانیت مخالف قوانین نافذ کر کے انھیں اپنی جدوجہد جاری رکھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بحرینی عوام کی تحریک جاری رہنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل خلیفہ حکومت کے دعووں کے برخلاف نہ صرف بحرینی عوام کی تحریک اور جدوجہد رکی نہیں ہے بلکہ اس میں دو ہزار سولہ کے دوران زیادہ تیزی آئی ہے۔