بحرینی عوام کی تقدیر اور مغربی حکومتوں کے مفادات
بحرین میں عوام کی انقلابی تحریک کو شروع ہوئے پانچ سال اور سات ماہ کا عرصہ گزر رہا ہے اور اس ملک کے حالات کے مطابق علاقائی اور عالمی سطح پر رد عمل تو دیکھنے میں آتا ہے لیکن اس بحران کی راہ حل پیش نہیں کی جاتی ہے۔
بحرین کے عوام کی انقلابی تحریک کا آغاز چودہ فروری سنہ دو ہزار گیارہ کو اللولو اسکوائر میں ہوا اور آج پانچ برس کا واقعہ گزرنے کے بعد بھی اس ملک کی سڑکوں پر بحرین کے سیاسی میدان میں عوام کی مسلسل اور موثر موجودگي کے ساتھ ساتھ آل خلیفہ حکومت بھی مختلف طریقوں سے بحرینی عوام کو کچلنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
بحرین کی اقلیت کے ہاتھوں اس ملک کے انقلابی عوام کو مختلف طریقوں سے کچلا جا رہا ہے لیکن انسانی حقوق کے ادارے بیان جاری کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
لوگوں کو سڑکوں پر نشانہ بنانا، مختلف طریقوں سے تشدد کرنا، مخالف جماعتوں کو کالعدم قرار دینا، انقلابی رہنماؤں کو جیلوں میں قید کرنا، پرامن اجتماعات کی روک تھام، نماز جمعہ پر پابندی اور لوگوں کی شہریت کو منسوخ کرنا بحرینی عوام کی انقلابی تحریک کو دبانے پر مبنی آل خلیفہ حکومت کی اسٹریٹیجی کا ایک حصہ ہے۔
ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی حامی بہت سی تنظیمیں اور حکومتیں بیان جاری کر کے بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تصدیق تو کرتی ہیں لیکن اصل مسئلے پر توجہ نہیں دیتی ہیں۔
بحرین ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن وہ مغربی ایشیا میں مغرب کے لئے بین الاقوامی اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل شمار ہوتا ہے۔
مغرب خصوصا امریکہ کے لئے مغربی ایشیا میں جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ بحرین میں اپنے اڈے کو دائمی طور پر باقی رکھنا ہے۔ اور اسے باقی رکھنےکے لئے آل خلیفہ کی حکومت کا باقی رہنا ضروری ہے اور آل خلیفہ حکومت مشرق وسطی میں مغرب کی دائمی موجودگي کی ضمانت کے مترادف ہے۔ یہ حکومت بحرین کے عوام کو کچلنے کے لئے ہر طرح کے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کے باوجود امریکہ اور برطانیہ کے لئے قابل اعتماد حکومت شمار ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ ان دونوں ممالک کے بحرین میں فوجی اڈے موجود ہیں۔
امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کی کمان بحرین میں ہے۔ منامہ اور لندن نے بھی سنہ دو ہزار چودہ میں بحرین میں ایک نیا فوجی اڈا قائم کرنے کی خبر دی۔ مشرق وسطی میں برطانیہ کے اولین فوجی اڈے کا ہیڈکوارٹر بحرین میں ہے جس کا نام ایچ ایم ایس ہے۔
بحرین میں امریکہ اور برطانیہ کے فوجی اڈوں کا تحفظ اور ان اڈوں کے ذریعے حاصل ہونے والے مفادات کی ضمانت انسانی حقوق کے نام نہاد حامی ان دو ممالک کے لئے انسانی حقوق کی پابندی، آزادی بیان کے احترام اور پرامن جلوس نکالے جانے سے کئی گنا زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
بحرین میں جمہوری اصولوں کی پابندی، اقلیت پر اکثریت کی حکومت قائم کرنے اور بحرین کے اہل تشیع کی اکثریت کے فیصلے کا احترام کرنے کے معنی اس ملک میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگي کے خاتمے کے ہیں۔
عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار دیا جانا اور سیاسی خود مختاری بحرینی عوام کی اکثریت کے دو اہم مطالبات ہیں اور وہ انہی مطالبات کو پورا کروانے کے لئے چودہ فروری دو ہزار گیارہ سے سڑکوں پر موجود ہیں۔ بحرین کے ظالم اور آمر حکمرانوں نے بھی منظم انداز میں ان کو کچلنے کی پالیسی ترک نہیں کی ہے۔ آل خلیفہ حکومت مغرب کے مفادات کے تحفظ کی خاطر بحرینی عوام کے مطالبات کا مقابلہ کر رہی ہے۔ اسی لئے مغرب آل خلیفہ حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرتا ہے اور بحرین کے حالات سے متعلق انسانی حقوق کی حامی مغربی تنظیموں اور ملکوں کے زاویۂ نگاہ کا اسی تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہئے۔