Aug ۳۱, ۲۰۱۶ ۱۹:۰۱ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کی تجویز کا مقصد بحران یمن کے حل میں مدد یا استقامت کو کمزور کرنا

واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے بحران یمن کے پرامن حل کی تجویز دی ہے کہ جو چار شقوں پر مشتمل ہے-

 یمن کے دارالحکومت صنعا اور دیگر اہم اور بنیادی شہروں سے تحریک انصاراللہ کے مجاہدین کا انخلاء، تحریک انصاراللہ اور اس کے اتحادیوں کے میزائلوں اور بھاری ہتھیاروں کو کسی تیسرے فریق کے حوالے کیا جانا ، قومی حکومت کی تشکیل ، اور اس حکومت کی جانب سے ایسا کوئی بھی ہتھیار نصب کئے جانے کی مخالفت جو یمن کے پڑوسیوں کے لئے خطرہ ہو، واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفارت خانے کی جانب سے پیش کردہ چار شقوں پرمشتمل تجاویز میں شامل ہے- یہ تجاویز ، گذشتہ جمعرات کو جدہ میں امریکی وزیرخارجہ جان کری کے صلاح و مشورے کے بعد سامنے آئی ہے - جان کری نے جدہ میں خلیج فارس تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اجلاس کے بعد بحران یمن کے حل پر تاکید کی اور دعوی کیا کہ انصاراللہ کے میزائل علاقے ، یمن کے پڑوسیوں حتی امریکہ کے لئے خطرہ ہیں- یمن جنگ کو تقریبا سترہ مہینے گذرنے کے بعد سامنے آنے والی سعودی تجاویز سے پتہ چلتا ہے کہ یمن میں جنگ کے ذریعے امریکہ اور سعودی عرب کے مقاصد پورے نہیں ہوئے ہیں- دونوں ممالک نے مارچ دوہزار پندرہ میں یمن میں طوفان قاطعیت کے زیرعنوان کارروائیوں کے لئے پہلے سے طے شدہ ہدف کے تحت جسے ہدف بنایا تھا وہ عوامی تحریک انصاراللہ  تھی تاہم یمن کی موجودہ سیاسی و جنگی صورت حال ، طوفان قاطعیت سے پہلے ہی سعودی اہداف کی شکست کی گواہ ہے-

ڈیڑہ سال سے زیادہ کا عرضہ گذرنے کے باوجود یمن کی جنگ بند گلی میں پہنچ گئی ہے کیونکہ انصاراللہ ، فوجی اور سیاسی میدان میں بھی پوری طاقت سے ڈٹی ہوئی ہے اور اس نے یمنی عوام اور پارلیمنٹ کی حمایت سے اپنی سرگرمیاں پھر شروع کر دی ہیں اور تحریک انصاراللہ کے اقدامات اور فیصلوں کی پارلیمنٹ نے توثیق بھی کی ہے-

یمن کی اعلی سیاسی کونسل کی تشکیل اور تحریک انصار اللہ کی انقلابی کمیٹی سے اقتدار کو اعلی سیاسی کونسل کے حوالے کرنا اور یمن کی پارلیمنٹ میں اس کی منظوری ، یمن کے سیاسی عوامی اور استقامتی گروہوں طرف سےطاقت کا بھرپور مظاہرہ ہے -

یمن کی رضاکار عوامی کمیٹیوں اور یمن کی قومی کانگریس پارٹی کے ساتھ ہی ساتھ تحریک انصاراللہ ، سعودی عرب اور اس کے ایجنٹوں کے مقابلے میں میدان جنگ میں ڈٹی رہی اور نوبت یہاں تک پہنچا دی کہ جان کیری نے جدہ میں یمن کے بحران کے حل کے منصوبے کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا اور واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے اس سے پردہ اٹھایا-

یہ منصوبہ ، اگرچہ بظاہر بحران یمن کے پرامن حل کے لئے ہے اور ذرائع ابلاغ میں آگیا لیکن بحران یمن کے حل کے لئے مجوزہ منصوبے کا اصلی مقصد، اس ملک کے عوام سے دفاع کے حق کو سلب کرنا ہے-

یمن کی عوامی استقامت نے سعودی عرب اور امریکہ کی جنگی مشینری کو اس ملک میں زمین بوس کردیا ہے اور ریاض و واشنگٹن کی کوشش ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہوہر وہ چیز جو جنگ سے حاصل نہیں کر سکے ، مذاکرات سے حاصل کریں-

سعودی عرب اور امریکہ کا اصلی مقصد  جارحین کے مقابلے میں مفید ، کارآمد اور عوامی طاقت تحریک انصاراللہ کو غیر مسلح کرنا ہے تاکہ یمنی عوام کا جارحین اور دشمنوں سے نمنٹے کا  یہ قانونی حق سلب ہو جائے- دوسرے لفظوں میں امریکہ میں سعودی عرب کے سفارت خانے کے مجوزہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا نتیجہ  یمن کی عوامی استقامت کے کمزورہونے اور موجودہ اور آئندہ دشمن  کے خظرات کے مقابلے میں ان سے دفاع کا حق سلب ہونے کی شکل میں نکلے گا-

حقیقی معنی میں یمن میں قومی حکومت کی تشکیل کے مقصد سے خودمختاری کے ساتھ تعمیری مذاکرات کے سہارے بحران یمن کا حل تحریک انصاراللہ سمیت یمنی جہادی گروہوں کا مطالبہ ہے- اسی تناظر میں یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد نے فریق مقابل کے ساتھ مذاکرات کے لئے اس کونسل کی آمادگی اور قومی اتحاد حکومت کی تشکیل پر تاکید کی ہے تاہم تحریک ا نصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام کے بقول اس آمادگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بحران یمن کے حل کے لئے پیش کی جانے والی تمام تجاویزسے اتفاق رکھتی ہے کیونکہ یہ تحریک  ، سعودی عرب کے حملوں اور اپنے موجودہ اور آئندہ دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور اپنے ہتھیار بھی کسی کے حوالے نہیں کرے گی-