Aug ۳۱, ۲۰۱۶ ۲۱:۰۲ Asia/Tehran
  • ثامر السہبان کے نامکمل مشن کی تکمیل کے لیے سعودی عرب کی کوشش

سعودی عرب کے میڈیا نے خبر دی ہے کہ جرمنی میں سعودی عرب کے فوج اتاشی بریگیڈیر عبدالعزیز بن خالد الشمروخی الشمری کا نام عراق میں سعودی عرب کے سفیر کی سطح پر تام الاختیار نمائندے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کی حکومت نے چند ماہ قبل پچیس سال کے بعد عراق کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بحال کیے تھے اور اپنا سفیر بغداد بھیجا تھا۔ بغداد میں سعودی سفیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے والے ثامر السہبان اس سے قبل لبنان میں سعودی عرب کے سفارت خانے میں فوجی اتاشی تھے۔ ثامر السہبان کے فوجی پس منظر سے ظاہر تھا کہ سعودی عرب کی حکومت عراق کے لیے خصوصی پروگرام رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ عراق کا سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں کیا مقام ہے؟ سعودی حکومت فوجی پس منظر رکھنے والے افراد کو ہی سفیر کے طور پر بغداد بھیجنے پر کیوں اصرار کرتی ہے؟

دو ہزار تین میں عراق کے نئے سیاسی نظام کی تشکیل سے قبل سعودی عرب اور عراق کے تعلقات کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ  ریاض اور بغداد کے تعلقات کشیدہ تھے۔ یہ تعلقات اس قدر کشیدہ تھے کہ سعودی حکمرانوں کی کوششوں سے انیس سو اکاسی میں خلیج فارس تعاون کونسل قائم ہوئی۔ عراق اس کونسل کا رکن نہیں ہے اور اس کونسل کے قیام کا ایک اہم سبب عراقی حکومت کا مقابلہ کرنا تھا۔

سعودی حکومت نے البتہ ایران کے خلاف عراق کی جنگ میں عراقی حکومت کی حمایت کی اور بعد کے برسوں میں صدام کی حکومت کے خاتمے تک سیاسی تعلقات منقطع ہونے کے باوجود وہ عراق میں صدام کے برسراقتدار رہنے کو ایک موقع سمجھتی تھی اور حتی سعودی حکومت عراق پر امریکہ کے حملے کی مخالف تھی۔ عراق کے بارے میں سعودی عرب کے اس موقف کی دلیل اور وجہ یہ تھی عراق میں ایک سنی حکومت برسراقتدار تھی کہ جو ایران کی دشمن سمجھی جاتی تھی اور سعودی عرب کے خیال میں صدام، عراق اور علاقے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اثرورسوخ کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تھا۔

عراق میں صدام حکومت کے خاتمے سے سعودی عرب میں سیکورٹی تشویش پیدا ہو گئی کیونکہ اس کے نتیجے میں عراق میں شیعہ اکثریت کی حکومت قائم ہو گئی اور عراق ایران کے ایک دشمن کے بجائے دوست ملک میں تبدیل ہو گیا۔ تہران اور بغداد کے تعلقات میں فروغ آیا جس کی وجہ سے سعودی حکومت نے عراق کے بارے میں عرب قوم پرستی کو بھی چھوڑ دیا۔ عرب ممالک کے بارے میں سعودی عرب کی ایک اہم اسٹریٹیجی اور حکمت عملی، ان ملکوں کی ارضی سالمیت کا تحفظ ہے لیکن صدام حکومت کے خاتمے اور عراق اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہونے کے بعد مشرق وسطی میں آنے والی جیوپولیٹیکل تبدیلیوں کی وجہ سے سعودی عرب کی حکومت نے عراق کی عرب لیکن شیعہ حکومت کو کمزور کرنے کی پالیسی اختیار کر لی۔

اس بنا پر لبنان میں سعودی عرب کے فوجی اتاشی ثامر السہبان کو پچیس سال کے بعد عراق میں سعودی عرب کے پہلے سفیر کے طور پر نامزد کیا گیا۔ ثامر السہبان صرف سات مہینے تک عراق میں سفیر رہا۔ اس کا اصلی مشن عراق کی قانونی حکومت کے مخالفین کی حمایت کرنا، کردستان کے علاقے کی مقامی حکومت کو بغداد کی مرکزی حکومت کے خلاف اکسانا، اہل سنت قبیلوں کے درمیان اثرورسوخ پیدا کرنا اور انھیں عراقی حکومت کے خلاف بھڑکانا اور عراق میں داعش کی حمایت کرنا تھا۔

اسی بنا پر عراقی حکومت نے سعودی عرب سے ثامر السہبان کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔ عراقی حکومت نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی غیرفوجی اور سفارتی آداب سے آشنا شخص کو سفیر کے طور پر نامزد کرے لیکن سعودی عرب نے جرمنی میں اپنے فوجی اتاشی کا نام بغداد میں سفیر کے طور پر پیش کیا تاکہ وہ یہ ظاہر کرے کہ عراق میں ثامر السہبان کے نامکمل مشن کو پورا کرنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔

سعودی عرب کے یہ اقدامات ریاض کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں حیدر العبادی کی حکومت کی غلطی کی عکاسی کرتے ہیں اور بریگیڈیر عبدالعزیز بن خالد الشمروخی الشمری کو سفیر کے طور پر قبول کرنا بھی اس حکومت کی ایک اور غلطی ہو گی۔