عربوں کا قتل عام اور حج کی بدانتظامی
عربوں کا قتل عام سعودی عرب کی موجودہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے عرب لیگ سے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی غیر تعمیری حمایت ترک کر دیں ۔
بہرام قاسمی نے گذشتہ روز عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ اگر یہ کونسل علاقائی ممالک کے درمیان عدم مداخلت ،حسن ہمسائیگی کے اصولوں پر صداقت اور سچائی کے ساتھ عمل کرنا چاہتی ہے تو اسے سعودی عرب سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ شام ،عراق ، یمن اور بحرین میں عوام کا قتل عام اور انہیں کچلنے نیز علاقے میں اپنے بنائے ہوئے دہشت گردوں کی حمایت کا سلسلہ ختم کرے ۔
عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کی کونسل نے مصر میں منعقدہ اپنے اجلاس کے اختتام کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام حج جس میں سعودی عرب میں حج کے انتظامات کے حوالے سے سعودی حکومت پر تنقید کی گئی تھی کے جواب میں کہا ہے کہ اسطرح کا موقف سعودی عرب کے حج کے انتظامات اور مسلمانوں کے حوالے سے اسکی جو خدمات ہیں سے تطبیقق نہیں رکھتا ۔یہ کونسل ایسے عالم میں حج کے انتظامات کےحوالے سے سعودی گورنمنٹ کی حمایت کر ہی ہے کہ گذشتہ سال سعودی حکومت کی بد انتظامی اور نااہلی کی وجہ سے ہزاروں حجاج کرام عید قربان کے دن سخت گرمی اور پیاس کی حالت میں ایک دوسرے کے پاؤں کے نیچے کچل کر جاں بحق ہوئے ہیں ۔
سعودی حکام س بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ سانحہ منی ٰ میں قصور وار نہیں ہیں لیکن سعودی مشینری اور انکے کارندوں کی کارکردگی قابل دفاع نہیں ہے بلکہ یہ جرم کے زمرے میں آتی ہے ۔
سانحہ منیٰ کے وقت سعودی حکام اور کارندوں نے کچھ نہیں کیا بلکہ وہ سخت گرمی میں مرنے والے حاجیوں کی موت کا تماشہ دیکھتے رہے ۔حاجیوں کی لاشوں کی توہین ، انسانی جان کو اہمیت نہ دینا ،جنبلب حجاج کو بجانے کی کوشش نہ کرنا اور سخت گرمی اور پیاس میں زائرین خدا کا شہید ہونا ایسا عمل ہے جو کلنک کے ٹیکے کی مانند سعودی حکام کی پیشانی پر ہمیشہ موجود رہے گا ، ایسے حکام جو اپنے آپ کو خادم الحرمین شریفین بھی کہتے ہیں ۔
حج کے انتظامات کے حوالے سے سعودی حکومت پر حقیقت پسندانہ تنقید وہ کم سے کم حق ہے جو اس سانحہ میں متاثرہ حجاج کے پسماندگان اور اسلامی ممالک کا ہے ، اس تنقید کا مقصد یہ ہے کہ اس واقع کے تمام حقائق سامنے آئیں اور سعودی عرب کی حکومت اس کا جواب دے ۔
اسلامی جمبہوریہ ایران کے حکام اس واقع کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرنے پر اس لیے بھی زور دے رہے ہیں کیونکہ اس سانحہ کو ایک سال کا عرصہ ہونے کو ہے لیکن سعودی حکام نے ابھی تک نہ صرف معذرت کا ایک لفظ کہا ہے اور نہ ہی فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران جاں بحق ہونے والے حجاج کی اموات پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔
سعودی حکام حج کے انتظامات کے حوالے سے بد انتظامی کی وجہ سے بجائے اس کے کہ اپنی بد انتظامی اور نااہلی کی وجہ سے سوگوار لواحقین اورعالم اسلام کے سامنے جوابدہ ہوں اس کا ملبہ دوسروں پر گرا رہے ہیں ۔
انسانوں کی جانوں کو اہمیت نہ دینا ، لاشوں کی بے حرمتی کرنا ، جاں بلب حاجیوں کو مردوں کے ساتھ کنٹینروں میں بند کر کے انہیں موت کی نیند سلا نا نیز علاقے میں دہشت گردوں کی حمایت کی تخریبی کاروائیوں کی حمایت ایسے اقدامات ہیں جس سے رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام حج گویاتمام مسلمانوں کے دل کی آواز محسوس ہوتا ہے ۔
رہبر انقلاب اسلامی نے حج کے امور میں سعودی حکام کی بدانتظامی اور نااہلیت سے آگاہی کی وجہ سے امت مسلمہ سے کہا ہے کہ وہ حج کے انتظامات کے بارے میں غور وفکر کریں۔رہبر انقلاب اسلامی کی تعبیر کے مطابق اگر عالم اسلام نے حرمین شریفین اور حج کے انتظامات کے بارے میں بنیادی چارہ جوئی اور غوروفکر نہ کیا تو مستقبل میں مسلمانوں کے لئے بڑی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ایسی صورت حال میں آل سعود کے اقدامات سے لا تعلقی امت مسلمہ کی حق میں نہیں ہے ۔اسلامی اتحاد کی دشمن طاقتیں سعودی عرب کے ساتھ ملکراور انکی پالیسیوں کی حمایت کرکے امت مسلمہ کی قوت و طاقت کو کمزور کرنے کی خواہاں ہیں۔سعودی عرب کی دانستہ اور نادانستہ حمایت کرنے والے ممالک کا اگر حمایتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو یہ ممالک بھی ایک دن ریاض کی عدم استحکام کی پالیسیوں کا شکار ہوجائیں گے ۔علاقے کے مختلف ممالک میں عربوں کا ہرروز کا قتل عام سعودی عرب کی موجودہ پالیسیوں اور اسکی بے جا حمایت کا نتیجہ ہے۔