سعودی عرب اور امریکہ کے مقابلے میں اقوام متحدہ کا لچکدار موقف
سعودی عرب نے یمنی وفد کو، جو امن مذاکرات کے لئے مسقط گیا تھا، یمن کے دارلحکومت صنعا واپس جانے کی اجازت نہیں دی ہے-
اقوام متحدہ کے پریس دفتر نے اعلان کیا ہے کہ یمنی وفد کی ان کے ملک واپسی کی شرط یہ ہے کہ یہ وفد اپنے تمام عہدوں سے برطرف ہوجائے- المیادین ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ صنعا کے وفد کی وطن واپسی کی شرط یہ ہے کہ یہ وفد اپنے تمام عہدوں سے برطرف ہوجائے اور استعفی نامے پر دستخط کردے -
یہ ایسی حالت میں ہے کہ یمن کی اعلی سیاسی کونسل بدستور ، سلامتی کونسل کے بیان کے بارے میں صلاح و مشورے کی غرض سے یمن کے قومی وفد کی مسقط سے صنعا واپسی کے لئے اقوام متحدہ سے قدم اٹھائے جانے، نیز فضائی پابندی ختم کئے جانے، اور مختلف ملکوں کے ایئرپورٹس پر پھنسے ہوئے ہزاروں یمنی باشندوں تک امداد پہنچانے کے لئے طیاروں کی پرواز کی روک تھام ختم کئے جانے اور مریضوں کو ملک سے باہر لے جانے کی ضرورت پر تاکید کر رہی ہے-
ان اقدامات کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی خاموشی اورآئے دن جارح سعودی حکومت کے ہاتھوں یمن کے بے گناہ اور نہتے عوام کا قتل عام ایک خطرناک مسئلہ بنتا جا رہا ہے- اقوام متحدہ کی یہ خاموشی اس کے اہداف اور مشن کے منافی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ بھی یمن پر حملوں میں سعودی عرب کی جارحیت میں، ایک شریک میں تبدیل ہوگیا ہے- یمن کے بحران کے بارے میں اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ اراکین کے ردعمل اور ان کے اظہار خیالات سے بھی اس بحران کے بارے میں ان کی بوکھلاہٹ کی نشاندہی ہوتی ہے-
یہ ایسی حالت میں ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں سے اب تک ، یمن کے مسئلے میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے " اسماعیل ولد شیخ احمد" کا نام بہت ہی کم دیکھا اور سنا جا رہا ہے گویا یمن کے بحران اور حتی اس سے متعلق خبروں میں ان کا ذکر بہت کم ہوگیا ہے-
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اسماعیل ولد شیخ کا یمن کے مسئلے میں ذکر کم ہونا ممکن ہے اس بات کے مترادف ہو کہ امریکی، آشکارہ اور سرکاری طورپر یمن کے کیس کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں اور ماضی سے زیادہ اس مسئلے پر براہ راست نظر رکھنا چاہتے ہیں البتہ اس مسئلے میں اقوام متحدہ کے لچکدار موقف اور کارکردگی نیز یمن کے بحران میں امریکیوں کے گستاخانہ اقدامات کے خلاف تنقیدوں میں اضافہ ہوا ہے-
قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے بحران یمن کے حل کے لئے کوئی قابل قبول کارنامہ انجام نہیں دیا ہے اور وہ یمن میں سعودی عرب کے وحشیانہ جرائم کو نہیں روک سکا ہے-
صرف ایک اہم قدم جو اقوام متحدہ نے اٹھایا وہ یمن کے امور میں اس ادارے کے نمائندے اسماعیل ولد الشیخ کی کوششوں سے قومی مذاکرات انجام پانا تھا ، تاہم یہ کوششیں بھی آل سعود اور امریکہ کی خلاف ورزیوں اور روڑے اٹکائے جانے کے سبب بحران یمن کے حل میں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں-
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سعودی عرب کا نام ، یمن کے بحران میں بچوں کے حقوق کے خلاف ورزی کرنے والے اور بچوں کے قاتل ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا تاہم سعودی عرب اور عرب اور مغربی ملکوں کے دباؤ کے نتیجے میں بان کی مون ، اس فہرست سے سعودی عرب کا نام نکالنےپر مجبور ہوگئے-
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ سعودی عرب جو ، یمن کے خلاف وسیع پیمانے پر وحشیانہ حملے کرکے، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور میں بیان کئے گئے تین واضح جرائم یعنی (انسانیت کے خلاف جرائم، امن کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم ) کا واضح مصداق ہے، مغربی طاقتوں کی حمایت سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کی ایک کمیٹی کا سربراہ مقرر ہورہا ہے اور یہی چیزاس بات کو برملا کردیتی ہے کہ اقوام متحدہ، سعودی عرب کے پیسوں اور امریکہ کی طاقت سے کتنا زیادہ متاثر ہے اور ان کی منشا کے مطابق کام کر رہا ہے-