Sep ۲۷, ۲۰۱۶ ۱۵:۵۹ Asia/Tehran
  • افغانستان: منشیات کی پیداوار بدستور ایک مسئلہ

کابل میں انسداد منشیات کے ساتویں اجلاس کے اختتام پر حکومت افغانستان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ افغانستان میں منشیات سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرے۔

 

کابل میں انسداد منشیات کے ساتویں اجلاس کے اختتام پر حکومت افغانستان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ افغانستان میں منشیات سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرے۔ افغانستان میں وزیر برائے انسداد منشیات سلامت عظیمی نے اس دو روزہ اجلاس سے خطاب میں تاکید کی کہ منشیات معاشرے کی سلامتی، انسانی حقوق اور پائدار ترقی کے لئے خطرناک ہے اور اس  سے مقابلہ اور اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے عالمی برادری کی متحدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لئے ہمہ گیر کوششوں، قومی عالمی اور علاقائی سطح پر جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس علاقائی کانفرنس میں افغانستان، ایران، تاجیکستان، پاکستان اور روس شامل ہیں لیکن پاکستان نے اس کانفرنس میں اپنا کوئی نمائندہ نہیں بھیجا تھا۔ اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے ملکوں نے ایک بیان جاری کرکے افغانستان میں خشخاش کی کاشت اور منشیات کی پیداوار نیز ممکنہ طور پر علاقے میں  ہیلوسی نیشن  HALLUCINATIONپیدا کرنے والی نئی دواؤں کی اسمگلنگ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان میں انسداد منشیات کی علاقائی کانفرنس ایسے عالم میں منعقد ہوئی ہے کہ اب بھی افغانستان میں دنیا میں سب سے زیادہ منشیات کی پیداوار ہوتی ہے۔ دوہزار ایک میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد منشیات سے مقابلہ کرنے کی ذمہ داری برطانیہ کے سپرد کی گئی تھی اور صوبہ  ہلمند کہ جہاں افغانستان میں سب سے زیادہ منشیات کی پیداوار ہوتی ہے سیکڑوں برطانوی فوجیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ مغربی ملکوں نے عملی طور سے منشیات کی پیدوار سے مقابلہ کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا بلکہ افغانستان میں بدستور منشیات کی کاشت ہورہی ہےاور اس میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ روس کی حکومت نے با رہا نیٹو اور امریکہ کو افغانستان میں منشیات کے مسئلے پر بے توجہی کا الزام لگایا ہے۔ ماسکو کی حکومت کی نظرمیں مغربی حکومتوں نے افغانستان میں نہ صرف گذشتہ پندرہ برسوں میں خشخاش کی کاشت اور پیداوار کا مقابلہ کرنے کا کوئی اقدام نہیں کیا تھا بلکہ بعض رپورٹوں سے تو سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ جارح اور قابض افواج افغانستان سے منشیات کی ٹرانزیٹ میں ملوث ہیں۔

منشیات انتہا پسند اور دہشتگرد گروہوں کا ذریعہ آمدنی ہیں۔چونکہ امریکہ نے عملا یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ افغانستان میں انتہا پسند اور دہشتگرد گروہوں کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا لھذا نیٹو اور برطانیہ نے بھی خشخاش کے کھیتوں کی نابودی اور منشیات کی ٹرانزیٹ کو روکنے کا کوئی اقدام نہیں کیا۔ اسی بنا پر افغان قوم منشیات کی پیداوار میں اضافے کی شاہد ہے اور اس میں وہ منشیات بھی ہیں جنہیں صنعتی سطح پر بنایا جاتا ہے جن سے علاقے کے دیگر ملکوں کو سماجی اور سکیورٹی لحاظ سے نقصان پہنچ رہا ہے۔

افغانستان جو ماضی قریب میں واحد ملک تھا جہاں منشیات کی پیداوار کے ساتھ ساتھ منشیات کو برآمد بھی کرتا تھا آج قابض ملکوں کی تخریبی پالیسیوں کی بنا پر اس ملک میں چھتیس لاکھ افراد منشیات کی لت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں خشخاش کی جگہ کسی اور متبادل فصل اگانے کی تجویز پیش کی تھی اور اس منصوبے پر عمل کرنے میں تعاون کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے پر عمل درامد سے نہ صرف خشحاش کی کاشت ختم ہوجاتی بلکہ افغان کسان عوام کی غذائی ضرورتوں منجملہ گندم کی کاشت کرسکتے تھے۔

واضح رہے کہ منشیات ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے خطرناک نتائج اور نقصانات دہشتگردی سے کہیں بڑھ کر ہیں کیونکہ منشیات سے نہ صرف گھرانے کی بنیادیں کھوکھلی ہوجاتی ہیں  بلکہ اس سے معاشرے اور ملک بھی تباہ و برباد ہوجاتے ہیں لھذا تمام ملکوں کو چاہیے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ کا بھرپور مقابلہ کریں اور موت کے سوداگروں کے لئے عرصہ حیات تنگ کردیں۔ اس صورت میں امید رکھی جاسکتی ہےکہ منشیات کی پیداوار، اسمگلروں اور ٹرانزیٹ سے مقابلہ کرنے کی کوششیں بار آور ثابت ہوسکیں گی۔