پرامن جوہری توانائی کا استعمال ایران کا ایسا حق ہے جس پر کوئي مذاکرات نہيں کئے جا سکتے: سید عباس عراقچی
ایران کے وزيرخارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پرامن جوہری توانائی کا استعمال ایران کا ایسا حق ہے جس پر کوئي مذاکرات نہيں کئے جا سکتے
سحرنیوز/ایران: ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیار انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
سید عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ ایران ہمیشہ پرامن جوہری توانائی کے راستے پر گامزن رہا ہے اور ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محفوظ جوہری تنصیبات پر حملے جنگی جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے ان حملوں کی واضح مذمت نہ کرنا ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے جامع حفاظتی نظام کے تحت تعاون جاری رکھے گا اور یہ تعاون مکمل طور پر تکنیکی اور غیر جانبدار بنیادوں پر ہونا چاہیے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ بعض مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ کا طرز عمل مذاکراتی عمل کو کمزور کر رہا ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
ایرانی وزيرخارجہ نے کہا کہ ان کی ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی کے ساتھ تکنیکی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی جس میں ایران اور آئي اے ای اے کے درمیان تکنیکی تعاون کو جاری رکھنے کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی۔ سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اس دوران ایجنسی کے اس ممکنہ کردار پر بھی تبادلہ خیال ہوا جو وہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور امریکہ کے درمیان ادا کر سکتی ہے۔
دریں اثنا ایرانی وزيرخارجہ نے اعلان کیا ہے کہ جنیوا میں ہوئے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ ایٹمی مذاکرات میں رہنما اصولوں پر عام اتفاق ہوگيا ہے
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کے دوسرے دور میں پہلے مرحلے کی نسبت بہتر پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد عراقچی نے کہا کہ ایران اور امریکہ بعض امور پر اصولی اتفاق رائے تک پہنچ گئے ہیں، جو ممکنہ معاہدے کے متن کی تیاری کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنیوا میں مذاکرات تعمیری ماحول میں منعقد ہوئے اور کچھ رہنما اصولوں پر اتفاق ہوا ہے اور مذاکرات صرف جوہری امور تک محدود رہے۔
عراقچی نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کی تحریر اور مسودہ سازی کا مرحلہ زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے کیونکہ دونوں جانب کے مؤقف کو الفاظ میں اس طرح ڈھالنا پڑتا ہے کہ قانونی اور عملی پہلوؤں میں توازن برقرار رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فریقوں کے درمیان بعض اختلافات موجود ہیں جنہیں قریب لانے کے لیے وقت درکار ہوگا۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ شروع ہونے والا یہ راستہ آخرکار ایک باقاعدہ معاہدے پر منتج ہوسکتا ہے، بشرطیکہ رہنما اصولوں کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جائے اور تکنیکی مراحل میں صبر و تدبر کا مظاہرہ کیا جائے۔
دوسری جانب بلومبرگ نے بھی اطلاع دی ہے کہ فریقین یعنی ایران و امریکہ نے مذاکرات کے تیسرے دور کے انعقاد پر اتفاق کیا ہے، تاہم اگلی نشست کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی ہے ۔