Oct ۰۲, ۲۰۱۶ ۱۵:۰۳ Asia/Tehran
  • سعودی عرب بچوں کی قاتل حکومت

تازہ ترین رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب یمن کے نہتے عوام کو سفید فاسفورس کے ممنوعہ گولوں سے بدستور نشانہ بنارہا ہے۔

 

تازہ ترین رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب یمن کے نہتے عوام کو سفید فاسفورس کے ممنوعہ گولوں سے بدستور نشانہ بنارہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے حال ہی میں ایک رپورٹ شایع کی ہے جس میں آیا ہے کہ سعودی عرب بدستور یمن کے عوام کو ایک خطرناک کیمیاوی مادے سفید فاسفورس کے گولوں سے نشانہ بنارہا ہے۔سفید فاسفورس کے گولے امریکہ نے آل سعود کی جارح حکومت کو دئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ میں ہتھیاروں کے شعبے کے سربراہ مراک ہیزنائے نے یمن کی جنگی  تصویروں کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تصویروں سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب یمن کے عام شہریوں کو سفید فاسفورس کے گولوں کا نشانہ بنارہا ہے اور یہ جنگی جرم ہے۔انہوں نے کہاکہ آل سعود کے اس اقدام سے عالمی اداروں کو تشویش لاحق ہوچکی ہے۔

سعودی عرب کے جرائم کے کھل کر سامنے آنے کے باوجود اقوام متحدہ نے اپنی کمزور پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئےایک بار پھر یمن میں سعودی عرب کے جرائم کی تحقیقات کرانے کی مخالفت  کی ہے۔اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق  کونسل نے یمن میں سعودی عرب کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی اور جرائم کی مستقل طور پر تحقیقات کرانے کی مخالفت کی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے عوام کو فریب دینے کا ایک اقدام کرتے ہوئے جس کا مقصد سعودی عرب کے جنگی جرائم کی تحقیقات میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور رائے عامہ کو آل سعود کے مجرم ہونے سے منحرف کرنا ہے یہ مطالبہ کیا ہے کہ یمن میں تمام فریقوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کی تحقیقات کرنے کے لئے ایک قومی تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے۔یہ تحقیقاتی کمیٹی عام شہریوں کی ہلاکتوں اور اسپتالوں پر حملوں کے بارے میں تحقیق کرے گی۔

اس رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے اس اقدام سے انسانی حقوق کے کارکن مایوس ہوگئے ہیں انہوں نے زید رعد کے ساتھ مل کر یمن پر سعودی عرب کے حملوں کے بارے میں مستقل طور پر تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ زید رعد اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے حقوق انسانی ہیں۔

بظاہر آل سعود کے حق میں اقوام متحدہ کی کمزور پالیسیاں جاری رہیں گی۔کچھ ہی دنوں قبل اقوام متحدہ نے  سعودی عرب کا نام بچوں کی قاتل اور ان کے حقوق پامال کرنے والی حکومتوں کی فہرست سے نکال دیا تھا جس پر اقوام متحدہ پر شدید تنقید کی گئی اور دوسری طرف آل سعود کی جارح حکومت یمن کے عوام پر مظالم ڈھانے میں مزید گستاخ ہوگئی۔

سعودی عرب کی جانب سے جنگ یمن میں نہتے عوام کے خلاف وسیع پیمانے پر ممنوعہ ہتھیار استعمال کرکے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اقوام متحدہ اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے، اور اقوام متحدہ کی یہی بیچارگی سعودی عرب کے مقابل اس عالمی ادارے کی پسپائی کا سبب ہے۔اقوام متحدہ کی سیاہ کارکردگی کے پیش نظر یہ بات غیر متوقع نہیں تھی کہ اقوام متحدہ جو دنیا میں امن قائم رکھنے والی نام نہاد تنظیم ہے وہ اپنے فرائض کو انجام دینے اور یمن کے عوام کی حمایت کرنے کےبجائے سعودی عرب کی لابیوں کے زیر اثر اپنا موقف بدل کرسعودی عرب اور اسکی لابیوں اور اسکی جارحیتوں اور جرائم کی حمایت کررہی ہے۔ایسی زہریلی فضا میں اقوام متحدہ کے جنرل سکیریٹری بان کی مون نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب کی سربراہی میں فوجی اتحاد بچوں کے قاتل اور حقوق پامال کرنے والے گروہ میں شامل کردیا گیا ہے لیکن اس پر سعودی عرب کے شدید اعتراض کے بعد اقوام متحدہ نے اپنا موقف بدلتے ہوئے اس  فہرست سے سعودی عرب کے اتحاد کا نام نکال دیا۔البتہ یہ کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے اتحاد کا نام بچوں کے حقوق پامال کرنے والی فہرست سے اس وجہ سے نکالا گیا ہے کہ یمن میں سیکڑوں بچوں کی اموات کے بارے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ یمن میں بچے بوڑھے اور خواتین  نیز اسپتالوں میں زیر علاج مریض آل سعود کی ہولناک بمباریوں اور جرائم کا شکار بن رہے ہیں۔اس کے باوجود اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی ادارے جن میں سلامتی کونسل بھی شامل ہے اور جس پر اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق عالمی سطح پر امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے انہوں نے یمن کے نہتے عوام کے خلاف آل سعود کی بربریت اور مجرمانہ اقدامات کو روکنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے اور اسی بنا پر یہ ادارے آل سعود کے جرائم میں شریک ہیں۔