عراق میں امریکہ اور سعودی عرب کی دہشتگردی
عراق میں شمالی شہر موصل کو دہشتگرد تکفیری گروہ داعش سے آزاد کرانےکی خبریں مل رہی ہیں،
عراق میں شمالی شہر موصل کو دہشتگرد تکفیری گروہ داعش سے آزاد کرانےکی خبریں مل رہی ہیں، وزیر اعظم حیدر العبادی نے ان خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے داعش کے ہاتھوں عراق کو ہونے والے ہمہ گیر نقصان کے بارے میں بھی تفصیلات بتائیں۔ عراقی وزیر اعظم حیدرالعبادی نے کہاکہ دہشتگرد گروہ داعش نے عراق کے بعض علاقوں پر قبضہ کرکے پینتیس ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔
ادھر عراق کے تباہ شدہ علاقے کی تعمیر نو کے ادارے کے سربراہ عبدالباسط ترکی نے کہا ہے کہ عراق کو تکفیری دہشتگرد گروہ سے آزاد کروائے گئے علاقوں کی تعمیر نو کے لئے تیرہ سے چودہ ارب ڈالر کی ضرورت پڑے گی۔ داعش نے تقریبا دو برسوں قبل عراق کے بعض علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تھا۔ داعش نے ابتدائی چند مہینوں میں شہر موصل اور تکریت پر قبضہ کرلیا تھا لیکن حالیہ مہینوں میں عراقی فوج اور عوامی فورسز نے داعش کے قبضے سے متعدد علاقوں کو آزاد کرالیا ہے ان علاقوں میں الرمادی اور تکریت بھی شامل ہیں۔ بلاشک تکفیری دہشتگرد گروہ اور امریکہ کی سرکردگی میں نام نہاد داعش مخالف اتحاد عراق کے مختلف علاقوں کی تباہی کے ذمہ دار ہیں بعض علاقوں منجملہ موصل میں ہونے والی تباہی اس قدر شدید ہے کہ بعض ماہرین کے مطابق اس شہر کی تعمیر نو کے لئے تقریبا دس برسوں کا وقت درکار ہے۔ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے ایک بین الاقوامی اور بعض علاقائی ملکوں کی سازش کے تحت جو امریکہ اور علاقے کی بعض پسماندہ عرب حکومتوں کے زیر نظر بنائی گئی تھی عراق کے اہم شہر موصل پر قبضہ کیا۔عراق میں داعش کے ہاتھوں اس قدر تباہی پھیلی ہے کہ نو برس تک عراق پر امریکی فوجیوں کے قبضے کی بنا پر عراق میں بدامنی شدت اور دہشتگردی میں وسعت آنے کے علاوہ اور کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔
بدامنی، بنیادی تنصیبات کی تباہی اور مختلف دہشتگرد گروہوں کی موجودگی عراق پر امریکہ کے قبضے کے نتائج ہیں اور اس وقت بھی عراق اور مجموعی طور سے علاقہ امریکہ کی تخریبی فوجی موجودگی اور داعش کو جنم دینے کی سازش کی قیمت چکا رہا ہے۔ واضح رہے کہ عراق میں جب سے امریکہ نے پسپائی اختیار کی اسی وقت سے داعش دہشتگرد گروہ نے سراٹھانا شروع کیا۔ علاقے میں کم از کم پندرہ برسوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں جہاں امریکہ نے براہ راست فوجی مداخلت کی ہے وہاں سب کچھ نابود ہوکر رہ گیا ہے اور تباہ کن اور وحشی دہشتگرد گروہ وجود میں آئے ہیں۔ دہشتگرد گروہ وہی کام کررہے ہیں جو امریہ کسی علاقے میں اپنی فوجیں تعینات کرنےکے بعد کرتا ہے اور وائٹ ہاؤس نے نیابتی جنگیں چھیڑ کر علاقے اور دنیا میں بدامنی کی آگ پھیلادی ہے۔
شام اور عراق کی موجودہ صورتحال اور وسیع پیمانے پر پھیلنے والی تباہی کا مغرب بالخصوص امریکہ کی پالیسیوں سے تعلق ہے جس نے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کو دہشتگردی کے مرکز میں تبدیل کردیا ہے۔
مجموعی طور پر داعش کو خطرناک ترین اور سفاکیت اور بربریت میں منفرد خصوصیات کا حامل دہشتگرد گروہ قراردیا جاسکتا ہے۔ یہ گروہ صیہونی حکومت اور امریکہ سے بھرپور تعلقات رکھتا ہے اوربعض پسماندہ عرب حکومتیں جیسے سعودی عرب کی حکومت اس کی بھرپور حمایت کرتی ہیں۔ امریکہ صیہونی حکومت اور سعودی عرب کی حمایتوں کے سہارے اس دہشتگرد گروہ نے دنیا کے مختلف ملکوں میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے اور وہاں اپنا قبضہ جما رکھا ہے۔
مشرق وسطی میں امریکہ تکفیری اور دہشتگرد گروہوں سے پیچیدہ اور متضاد تعلقات رکھتا ہے جس میں حمایت اور تعاون اور مقابلہ کرنا بھی شامل ہے۔ یہ ساری پالیسیاں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں مزید تباہی اور بربادی کا سبب بنی ہیں۔ عراق میں دہشتگردی کے خلاف امریکی اتحاد کے حملوں میں جو دہشتگردوں کے بجائے عراق کی بنیادی تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ داعش سے مقابلہ کرنے کے محض دعوے کرتا ہے۔ بہرحال عراق کے عوام داعش اور اسکے حامیوں جیسے امریکہ اور سعودی عرب اور بعض دیگر پسماندہ عرب ملکوں کی حماقتوں کی قیمت چکا رہے ہیں۔ عراقی عوام یہ امید رکھتے ہیں کہ موصل کو آزاد کرانے کی کاروائیوں کےتحت دہشتگردوں کی بیخ کنی ہوجائے گی اور ان کا ملک اپنی تعمیر نو کا کام شروع کرسکے گا۔