Oct ۰۹, ۲۰۱۶ ۱۳:۲۱ Asia/Tehran
  • یمن پر سعودی عرب کا ایک اور انتہائی جارحانہ حملہ

سعودی عرب نے غریب عرب ملک یمن پر انّیسویں مہینے میں حملے جاری رکھتے ہوئے جارحیت سے متعلق سیاہ کارناموں کی اپنی ریکارڈ فائل میں ایک اور وحشیانہ جارحیت کا اضافہ کیا۔

سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں نے ہفتے کی شام یمن کے دارالحکومت صنعا کے جنوب میں محرم کی مجلس عزا کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنایا جس میں یمنی ذرائع کے مطابق سات سو سے زائد افراد شہید و زخمی ہو گئے۔ نواسۂ رسولۖ حضرت امام حسین (ع) کی شہادت کے غم میں مجالس و جلوس عزاء میں بے گناہ یمنی شہریوں کو نشانہ بنانا، اس ملک میں سعودی عرب کی آل سعود حکومت کے ہاتھوں نسل کشی اور غیرانسانی جرائم کی انتہا ہے جبکہ یہ سب جرائم، عالمی اداروں کی خاموشی کے دائرے میں انجام  پا رہے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے جاری جارحیت میں روزانہ یمن میں ایسے بے گناہ انسانوں منجملہ عورتوں اور بچوں کا قتل عام ہو رہا ہے جو گذشتہ انّیس مہینوں سے معمولی ترین وسائل اور ہتھیار نہ ہونے کے باوجود آل سعود کی جارحیت کے مقابلے میں پوری طرح سے ڈٹے ہوئے ہیں اور یمن میں سعودی عرب کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آل سعود کا اب تک کوئی بھی خواب پورا نہیں ہو سکا ہے۔ سعودی حکام، جنھوں نے یمن پر جارحیت شروع ہونے پر اعلان کیا تھا کہ ایک ہفتے میں سارا کام تمام ہو جائے گا، آج یمنی عوام کی استقامت کے نتیجے میں بے بس ہو گئے ہیں اور یمن کی دلدل سے باہر نکلنے کے لئے اب وہ، انسانی حقوق کے دعویدار مغربی ملکوں کے ارسال کردہ ہتھیاروں سے وحشیانہ جارحیت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ صنعا میں مجلس و جلوس عزاء پر حملے میں سعودی ظالموں کی بربریت اتنی ہی دردناک ہے کہ سعودی عرب کے اتحادی ملکوں منجملہ امریکہ بھی، اس جارحیت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ امریکہ کی قومی سلامی کونسل کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ سیکورٹی تعاون کوئی بلینک چیک نہیں ہے اور یمن میں سعودی اتحاد کے لئے امریکی حمایت میں کمی آئی ہے۔ اس سے قبل امریکی وزارت جنگ کے ترجمان ایڈم اسٹامپ نے سعودی عرب سے امریکی فوجی مشیروں کی ایک بڑی تعداد کے انخلاء کے بارے میں کہا تھا کہ یمن میں سعودی عرب کے لئے مشیروں کی سطح پر امریکی حمایت، دستخط شدہ بلینک چیک کی مانند نہیں تھی۔ البتہ امریکہ کے اس موقف سے سعودی اتحاد کی جارحانہ کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور اس قسم کے موقف کی حقیقت سے، جو نتیجہ نکالا جا سکتا ہے وہ، یمن میں سعودی عرب کی وحشیانہ جارحیت کے دور میں واشنگٹن اور ریاض کے دیرینہ تعلقات کی ماہیت ہے۔ امریکہ کے علاوہ یمن میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے کوارڈی نیٹر جیمی میک گولڈریک نے بھی صنعا میں مجلس عزاء پر سعودی اتحاد کے حملے کو دل دہلا دینے والی جارحیت قرار دیا اور اس ملک میں عام شہریوں پر فوری طور پر حملے بند کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔ اگرچہ امریکہ اور اقوام متحدہ نے ایک بار پھر یمن میں سعودی عرب کی وحشیانہ جارحیت کی مذمت کی ہے تاہم گذشتہ انّیس مہینوں کے دوران سعودی جارحیت کے سلسلے میں ان کی خاموشی اور اپنائے جانے والے سیاسی رویے کی بناء پر ہی یمن کے مظلوم اور نہتھے عوام کے خلاف سعودی اتحاد کے جارحانہ حملوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ جنگ کے دور میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے سعودی عرب کا نام نکالے جانے کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیاسی اقدام اور سعودی عرب کے لئے مغربی ملکوں خاص طور سے امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں کی فراہمی اور سیاسی حمایت، یمن میں آل سعود کے ہاتھوں نسل کشی جاری رہنے کا باعث بنی ہے۔ چنانچہ اس وقت سعودی عرب کی جاری وحشیانہ جارحیت اور مغربی ملکوں کی خاموشی کے نتیجے میں یمنی عوام کو جس قسم کی صورت حال کا سامنا ہے وہ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دعویدار مغربی ملکوں کے مذبح میں انسانی حقوق کے قتل کی عکاسی کرتا ہے-