Oct ۱۰, ۲۰۱۶ ۱۸:۱۷ Asia/Tehran
  • ڈاکٹر روحانی: بڑی طاقتوں کی غیر قانونی مداخلت کی وجہ سے تشدد اور بدامنی کو ہوا ملی ہے

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ایشیا کے زیادہ طاقتور ہونے کا انحصار خود اعتمادی اور باہمی اتحاد پر قرار دیا ہے۔

 

 

 

۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے پیر کے دن بینکاک میں ایشیا کوآپریشن ڈائیلاگ اے سی ڈی میں ، کہ جس میں چونتیس ایشیائی ممالک کے سربراہ اور اعلی حکام موجود تھے، تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایشیائی ممالک کو منڈیوں کے دورازے کھولنے، اقتصادی تعاون، داخلی سیٹ اپ کی اصلاح، پالیسی سازی کے شعبے میں وسیع پیمانے  پر ہم آہنگی اور شفافیت کے ذریعے اپنے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور عالمی معاملات میں ایشیا کو بلند مقام تک لے جانے کی راہ میں بڑے قدم اٹھانے چاہئیں۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے کہاکہ آج سب اس بات کے معترف ہیں کہ کوئی بھی بین الاقوامی مسئلہ ایشیائی طاقتوں کی شرکت اور قریبی تعاون کے بغیر حل نہیں کیا جاسکتا ہے اور کرۂ ارض کی بڑی مشکلات جیسے آب و ہوا میں آنے والی تبدیلیاں، ماحولیات کا بحران اور اجتماعی مشکلات منجملہ بے گھر افراد، پناہ گزیں ، ناخواندگی اور غربت جیسے مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں ایشیائی ممالک ہی اجتما‏عی سلامتی قائم کرنے والے ممالک کے طور پر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ منڈیوں کے دروازے کھولنے، اقتصادی تعاون، داخلی سیٹ اپ کی اصلاح اور پالیسی سازی کے شعبے میں وسیع شفافیت اور وسیع ہم آہنگی کے ذریعے اپنے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور عالمی معاملات میں ایشیا کو بلند مقام تک لے جانے کی راہ میں بڑے قدم اٹھائے جانے چاہئیں۔

 

ڈاکٹر حسن روحانی نے ایشیا کے سرمایہ کاروں کو ایران میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی اور ایران میں ان کی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تہران ایشیا اور یورپ میں نقل و حمل کے شعبے میں سرگرم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

صدر مملکت نے خطے کے مسائل کے بارے میں بھی کہا کہ بڑی طاقتوں کی غیر قانونی مداخلت کی وجہ سے تشدد اور بدامنی کو ہوا ملی ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کا مزید کہنا تھاکہ ایران سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح خطے میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے نفوذ اور اس کے پھیلاؤ کے مقابلے میں ڈٹا ہوا ہے۔اور اس بات پر تاکید کرتا ہے کہ طاقتوں کی غیر قانونی مداخلت اس تشدد اور بربریت کے جاری رہنے کا سبب بنے گی۔ صدر جناب حسن روحانی کے بقول امن امان کی بات کے ساتھ ساتھ یکطرفہ طور پر ہمہ گیر ترقی کی بات کی جائے لیکن عراق و شام میں المناک دہشتگردانہ واقعات اور یمن میں بے گناہ خواتین اور بچوں پر ہونے والے بمباری اور فلسطین میں صیہونی حکومت کےجرائم کو نظر انداز کردیا جائے۔جیسا کہ صدر جناب حسن روحانی نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا تھا کہ جو لوگ متحدایشیا اور مختلف توانائیوں کا نعرہ لگاتے ہیں اور اسے دوہزارتیس کے ترقیاتی پروگرام میں کامیابی کی علامت سمجھتے ہیں اور اسے ارکان ملکوں کی مشترکہ امنگ بھی سمجھتے ہیں یقینا یہ ارادہ بھی رکھتے ہیں کہ وہ ایشیائی معاشرہ قائم کرنے میں قدم بھی بڑھائیں گے۔ ایشیا کا طاقتور ہونا بلاشک خود اعتمادی اور متحد ہونے کے مشترکہ ارادے پر منحصر ہے اس نقطہ نظر سے ایشیا کوآپریٹو ڈائیلاگ کو یہ کوشش کرنا چاہیے کہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بناکر غربت میں کمی لاکر اور بے روزگاری جیسے مسائل اور ماحولیات کے مسائل پر خاص توجہ دے کر ایشین افکار کو ایشیاء واحد کی صورت میں وجود بخشے۔