Oct ۱۳, ۲۰۱۶ ۱۷:۴۹ Asia/Tehran
  •  آل خلیفہ کے مقابلے میں بحرینی قوم کی استقامت

بحرین کی تحریک الوفاق کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ عوام کے خلاف آل خلیفہ کے تشدد آمیز اقدامات اس کی کمزوری اور ناکام پالیسیوں کی علامت ہیں۔

 

شیخ حسین الدیہی نے زور دے کر کہا کہ بحرین کے عوام آل خلیفہ کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آل خلیفہ کے تشدد پسندانہ اقدامات، تکفیری دہشتگرد گروہ داعش سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ بحرین میں دو ہزار گیارہ سے آل خلیفہ کے خلاف عوامی تحریک جاری ہے۔ بحرین کے عوام اپنے ملک میں سیاسی اصلاحات، آزادی اور عدل و انصاف کی برقراری، تعصب اور امتیازی رویے کے خاتمے اور ملک میں عوام کے ووٹوں سے بننے والی حکومت کے خواہاں ہیں لیکن آل خلیفہ حکومت، عوام کے ان مطالبات کا آہنی مکے سے جواب دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا میں نشر ہونے والی تصویروں سے بحرین میں اس ملک کے بزرگ اور مجاہد عالم دین آیۃ اللہ شیخ عیسی قاسم کی رہائش گاہ کے باہر جاری نواسۂ رسولۖ کی عزاداری میں عوام کی بھرپور شرکت کا پتہ چلتا ہے۔ آیۃ اللہ عیسی قاسم بحرینی عوام کے رہبر و رہنما ہیں۔ آیۃ اللہ عیسی قاسم کی رہائش گاہ، الدراز میں ہے اس علاقے کے محاصرے کے باوجود عوام کا جم غفیر ان کی رہائش گاہ کے باہر ان کی حمایت میں دھرنا دے رہا ہے اور آل خلیفہ کے ہاتھوں ان کی شہریت سلب کئے جانے پر احتجاج کر رہا ہے۔

بحرین میں گذشتہ چند دنوں کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ آل خلیفہ، بحرین کی قوم کے عقائد اور اس کے عزم مصمم سے خوفزدہ ہے کیونکہ بحرینی عوام اپنے ان ہی عقائد و عزم کے سہارے آل خلیفہ کے ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ آل خلیفہ کے ہاتھوں انسانی حقوق کی  پامالی صرف پرامن مظاہروں کو کچلنے، شہریت سے محروم کرنے، سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگانے اور علماء اور سیاسی رہنماؤں پر مقدمہ چلانے میں ہی خلاصہ نہیں ہوتی بلکہ آزادی بیان اور عوام کے عقائد، مجالس عزا اور نویں اور دسویں محرم کی عزاداری پر پابندیاں لگانے جیسی ظالمانہ پالیسیاں بھی اس کے جارحانہ اقدامات میں شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ بحرین کے عوام نے بدستور دھرنا جاری رکھ کر اپنے بزرگ عالم دین کو آل خلیفہ کی ظالمانہ دسترس سے باہر رکھا ہے۔ الدراز میں بحرینی قوم کا اپنے محبوب رہبر کے گھر کے اطراف میں دھرنا دینا اپنے دینی شعائر کی پاسداری اور آل خلیفہ کے خلاف احتجاج کی واضح نشانی ہے۔ علماء اور بحرینی عوام اس دھرنے کو دینی فریضہ سمجھتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ آل خلیفہ نے آیۃ اللہ شیخ عیسی قاسم کو نشانے پر رکھ کر دراصل بحرینی قوم کے دین اور دینی عقائد اور دینی آزادی کو نشانہ بنایا ہے۔ آیۃ اللہ شیخ عیسی قاسم کے گھر کے اطراف میں بحرینی قوم کا دھرنا اس بات کی علامت ہے کہ آیۃ اللہ عیسی قاسم محض ایک فرد نہیں ہیں بلکہ وہ اس ملک میں پیروان مکتب اہل بیت (ع) کے رہبر بھی ہیں۔ وہ ایسے عوام کے نمائندے ہیں کہ جنہیں آل خلیفہ نے شدید تعصب سے کنارے لگا دیا ہے اور ان کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔ آیۃ اللہ شیخ عیسی قاسم کی رہائش گاہ کے اطراف میں بحرینی قوم کا دھرنا ایسی قوم کی جانب سے ریڈ لائین کھینچے جانے کے برابر ہے جو اپنے دینی عقائد اور دینی شعائر کا دفاع کرنے کے لئے آل خلیفہ کے ظلم وستم کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے۔ آل خلیفہ کی حکومت، اسلام کی ترقی پسند تعلیمات بالخصوص مذہب تشیع کی حریت پسندانہ اور ترقی پسند تعلیمات کو جو ہر طرح کے ظلم وستم کا مقابلہ کرنے پر زور دیتی ہیں اپنی ڈکٹیٹر شپ کے سامنے رکاوٹ سمجھتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ، عوام کے اسلامی عقائد کو نشانہ بنا کر عوام کو اپنا تابع بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن آل خلیفہ کی جانب سے ملت بحرین کی اسلامی سرگرمیوں کو محدود کئے جانے اور اسلامی مقدسات اور دینی شعائر کی توہین کی وجہ سے بحرینی قوم مزید تیزی سے اپنی تحریک کو آگے بڑھا رہی ہے اور بحرینی عوام نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ وہ اپنے مذہبی شعائر کی توہین ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔