امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سعودی عرب کے ہمراہ یمن کے قتل عام میں شریک
اقوام متحدہ میں ایران کے نائب سفیرغلام حسین دہقانی نے نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت اور علاقے کے ممالک کو انواع و اقسام کے ہتھیاروں سے لیس کرنا انسان دوستانہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
غلام حسین دہقانی نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کمیٹی برائے ترک اسلحہ اور عالمی امن سے خطاب میں سعودی عرب اور صیہونی حکومت کومسلسل فروخت کئےجانے والے ہتھیاروں کے نقصانات پر روشنی ڈالتے ہوئے علاقے کے ملکوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی۔ حسین دہقانی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں بعض ملکوں کو بڑے پیمانے پر مہلک ہتھیار فراہم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو علاقے بالخصوص سعودی عرب اور صیہونی حکومت کو اس طرح کے ہتھیار دئے جانے پر سخت تشویش ہے کیونکہ اس سے عدم استحکام پھیلتا ہے۔
واضح رہے کہ مغرب بالخصوص امریکہ ایسے عالم میں خلیج فارس کے عرب ملکوں کو وسیع پیمانے پر ہتھیار فروخت کر رہا ہے کہ جب ان ہتھیاروں سے علاقے کے امن و استحکام اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔
حالیہ برسوں میں مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اور برطانیہ نے سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے معاہدے کئے ہیں اور ان معاہدوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب کو مغربی ہتھیار ایسے عالم میں دئے جا رہے ہیں کہ جب آل سعود کی حکومت کے اقدامات سے مغربی ایشیا کا امن اور استحکام خطرے میں پڑ چکا ہے۔ سعودی عرب کی جارحانہ پالیسیوں سے علاقے میں مغربی ایشیا کے ہتھیاروں کی ترسیل کا راستہ ہموار ہوا اور یہ پالیسی علاقے میں بدامنی اور نہتے عوام کے قتل عام پر منتج ہوئی ہے۔
سودی عرب اور اسکے پٹھواتحاد نے تقریبا دو برسوں سے یمن کو اپنی وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے اور سعودی جارحیت کے تحت یمن نسل کشی اور انسانیت سوز جرائم کا بھیانک نمونہ بن چکا ہے۔ گذشتہ انیس مہینوں میں سعودی عرب اور اسکے پٹھو اتحاد نے یمن کے نہتے عوام کے خلاف جو امریکی اور برطانوی ہتھیار استعمال کئے ہیں ان میں کم از کم دس ہزار یمنی خواتین، بچے اور مرد شہید ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کی نئی مجرمانہ کارروائی، جنوبی صنعا میں مجلس عزاداری پر حملہ کرنا ہے۔ یہ حملے میں بھی جو چھے محرم کو کیا گیا، امریکی اور برطانوی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں۔ اس حملے میں آٹھ سو بےگناہ یمنی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
سعودی عرب کا یہ وحشی پن اورگذشتہ انیس مہینوں میں سعودی بربریت کے دسیون نمونے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور انسانی دوستانہ عالمی قوانین کی دھجیاں اڑانا نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے؟ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو انواع و اقسام کے ہتھیار فروخت کرنے والے ملک اس اقدام سے عالمی انسان دوستانہ قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات بھی سعودی اتحاد اور یمن کے عوام کے قتل عام میں شریک ہے۔ یمن میں انسانی حقوق کی پامالی کا خاتمہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب مختلف ممالک انسان دوستانہ عالمی قوانین کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں پرعمل کریں اور یمن پر جارحیت کرنے والے ملکوں کو ہتھیار فروخت نہ کریں ۔
یمن کے خلاف سعودی عرب کے اقدامات ویسے ہی ہیں جیسے فلسطین میں صیہونی حکومت کے ہیں۔ صیہونی حکومت نے بھی عالمی انسانی حقوق کو پامال کرکے چھے دہائیوں سے زائد عرصے سے مقبوضہ فلسطین میں نسل کشی اور دہشتگردی پھیلا رکھی ہے۔ غاصب صیہونی حکومت کے لئے امریکہ کی اڑتیس ارب ڈالر کی فوجی مدد اور اس حکومت کے ایٹمی پروگرام کی حمایت، فلسطین پر قبضہ جاری رکھنے اور فلسطینی عوام کا قتل عام کے جاری رہنے کے معنی میں ہے اور اسی سے وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی بھی پامالی ہو رہی ہے اور مغربی ایشیا میں عدم استحکام پھیلتا جا رہا ہے۔