Oct ۱۶, ۲۰۱۶ ۱۶:۴۰ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کی مکارانہ سفارت کاری کے نتائج

عراقی پارلیمنٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے ہفتے کے روز اپنے ملک کی حکومت اور وزارت خارجہ سے کہا ہے کہ بغداد میں سعودی عرب کے سفیر ثامر السبہان کی جگہ عبدالعزیز الشمری کی بطور ناظم الامور تقرری کی مخالفت کریں۔

عراقی پارلیمنٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن خالد الاسدی نے اس بارے میں کہا کہ عراق میں سعودی عرب کے سابق سفیر ثامر السبہان اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے عرصے کے دوران سیاسی و سیکورٹی مشکلات پیدا ہونے کا سبب بنے۔ انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ سعودی عرب کے سابق سفیر بڑی ڈھٹائی سے عراق کے داخلی امور میں مداخلت کر رہے تھے، کہا کہ ہم نے مشکلات اور دیگر بحرانوں کو پیدا ہونے سے روکنے کے لیے انھیں نکالنے کا اقدام کیا۔

واضح رہے کہ ثامر السبہان اس سے پہلے لبنان میں سعودی عرب کے فوجی اتاشی تھے اور لبنان میں بھی ان کے بعض تکفیری گروہوں کے ساتھ مشکوک تعلقات تھے اور اپنی ذمہ داریوں کے آخری دنوں میں بھی وہ لبنان میں اپنے اقدامات پر حساسیت پیدا ہونے کا سبب بنے تھے۔

یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب عبدالعزیز الشمری بھی کہ جنھیں عراق میں سعودی عرب کا نیا ناظم الامور نامزد کیا گیا ہے، جرمنی میں سعودی عرب کے فوجی اتاشی رہے ہیں۔ وہ سعودی عرب کے سابق سفیر کی فوٹو کاپی ہیں کہ جو یقینا عراق میں اپنی سرگرمیوں سے نئے بحران اور مشکلات پیدا کر دیں گے۔

عراق اور علاقے کے بہت سے ملکوں میں سعودی عرب کے نامزد سفارت کاروں کا فوجی ماضی ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب عراق کے بارے میں دشمنانہ منصوبے رکھتا ہے۔

یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب آل سعود حکومت عراق کے حالات اور عراق میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی سطح کم کرنے یا منقطع کرنے کے بڑھتے ہوئے مطالبات کا جائزہ لے کر پہل کرتے ہوئے سفیر کے بجائے ناظم الامور مقرر کر کے عراق کے ساتھ تعلقات کی سطح کمک کرنے کا راستہ ہموار کرنا چاہتی تھی۔

بلاشبہ عراقی عوام کے سعودی عرب کی مداخلت پسندانہ رویئے پر ردعمل اور عراق میں مشکوک کردار کی حامل شخصیات کو سفارت کار مقرر کرنے کی مخالفت سے ظاہرہو گیا کہ عراق کبھی بھی آل سعود کے ایک زیراثر علاقے اور اس کی جولان گاہ میں تبدیل نہیں ہو گا۔

عراق کے عوام اور حکام سعودی عرب کی مداخلت پسندانہ اور دشمنانہ پالیسیوں کے پیش نظر اس کے اقدامات کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں اور اس بنا پر عراقی عوام آل سعود کی پالیسیوں اور مواقف کے بارے میں بہت حساس ہیں اور عراقی پارلیمنٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی جانب سے نئے سعودی ناظم الامور کی تقرری کی مخالفت بھی اسی حساسیت کی عکاسی کرتی ہے۔

علاقے کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود حکومت تکفیری اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ایک قابل نفرت حکومت میں تبدیل ہو گئی ہے اور اس کی پالیسیوں اور اقدامات کی مخالفت اور ان پر تنقید کا دائرہ بہت سے عرب ممالک تک پھیل گیا ہے۔

یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب بعض دیگر عرب ممالک بھی کہ جو ایک زمانے میں علاقے میں سعودی عرب کے اتحادی سمجھے جاتے تھے، آل سعود کی مکارانہ پالیسیوں اور سفارت کاری کی وجہ سے اس سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔