Oct ۱۹, ۲۰۱۶ ۱۷:۳۶ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کے خلاف افغان پارلیمنٹ کا احتجاج

ایسے میں جبکہ افغانستان کی قومی اتحاد حکومت کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سعودی عرب کے دورے پر ہیں، افغانستان کے اراکین پارلیمنٹ نے سعودی عرب کی جانب سے تشدد پسند اور دہشتگرد گروہوں کو دی جانے والی امداد پر کڑی نکتہ چینی کی ہے-

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے اراکین پارلیمنٹ نے، افغانستان میں ریاض کے اہداف کو آگے بڑھانے کے مقصد سے گروہ طالبان کو اربوں ڈالر امداد دیئے جانے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے-

احتجاج کرنے والے نمائندوں کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ، طالبان کی سالانہ تین سو ملین ڈالر کی مدد کرتا ہے جبکہ یہ دہشت گرد گروہ افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہے- 

افغان پارلیمنٹ کے ایک نمائندے جمال فکوری بہشتی نے کہا ہے کہ افغان حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرے کیوں کہ آل سعود حکومت نے ہمیشہ نہ صرف افغانستان میں بلکہ پاکستان اور بہت سے دیگر ملکوں میں بھی دہشت گرد گروہوں کی مدد و حمایت کی ہے-

افغان پارلیمنٹ کے ایک اور رکن غلام حسین ناصری نے بھی کہا ہے کہ سعودی حکمراں ، طالبان کو اربوں ڈالر دینے کے ذریعے اسلامی ملکوں میں فرقہ وارانہ جنگیں کرانے اور افغانستان و پاکستان میں قومی کشیدگی پھیلانے کے درپے ہیں -

افغانستان میں سعودی عرب کی کارکردگی کے خلاف ایسی حالت میں شدت آگئی ہے کہ افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے کے دفترنے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے سعودی حکام کے ساتھ افغانستان میں امن کے عمل سے متعلق گفتگو کی ہے- اس کے ساتھ ہی سعودی عرب کی جانب سے طالبان کی حمایت کے خلاف روز افزوں احتجاج ، افغانستان سمیت علاقے کے ملکوں کے داخلی معاملات میں ریاض کی مداخلت کے نتائج کی بابت گہری تشویش کا آئینہ دار ہے-

داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں کی یمن ، شام اور عراق میں سعودی عرب کی جانب سے حمایت نے، افغانستان کے مختلف حلقوں کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ ریاض کی حکومت اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لئے اسلامی ملکوں میں تفرقے پھیلا رہی ہے اور انہیں آپس میں لڑا رہی ہے-

افغانستان کے صوبے ننگرھار میں سعودی عرب کی طرف سے اسلامی یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے پانچ سو ملین ڈالر مختص کئے جانے پر عوام اور مقامی حکام نے شدید احتجاج کیا ہے اور سعودی عرب کے اس اقدام سے افغانستان میں وہابیت کو فروغ دینے کی عکاسی ہوتی ہے- 

غلط اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لئے پاکستان میں مذہبی مدارس کی سرگرمیوں کا ماحصل ، وہابیت کا فروغ اور اس ملک میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کو ہوا دینا ہے کہ جس نے عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کے وقار اور ساکھ کو بری طرح مجروح کردیا ہے-

سیاسی مبصرین کے نقطہ نگاہ سے سعودی حکومت ایک طرف مالی امداد کرنے اور دوسری طرف انتہا پسندانہ افکار کی ترویج کے ذریعے، درحقیقت اسلامی ملکوں میں تفرقہ پھیلانے اور داخلی جنگ چھیڑنے کے درپے ہے-

اسی سبب سے دہشت گرد گروہوں کی حمایت میں سعودی عرب کی پالیسیوں کے ماضی سے زیادہ منظر عام پر آنے اور انکشاف ہونے کے پیش نظر افغانستان کے عوام کو اسلامی ملکوں میں سعودی حکومت کی پالیسیوں سے ماضی سے زیادہ تشویش لاحق ہے اور ان کی یہ تشویش بجا بھی ہے چونکہ یمن ، شام ، عراق اور پاکستان میں سعودی عرب کی آشکارہ مداخلتوں کے نتائج کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے-