سعودی عرب کی جانب سے صیہونی حکومت سے اسلحے کی خریداری
خبری ذرائع نے صیہونی حکومت سے سعودی عرب کے ہتھیار خریدنے کی خبر دی ہے-
سوشل میڈیا پر سعودی عرب کی فعال سیاسی شخصیت مجتہد نے سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے درمیان کئی ہیلی کاپٹروں کی خریداری کے معاہدے کے بارے میں خصوصی اطلاعات دی ہیں- یہ معاہدہ جنوبی افریقہ کے توسط سے طے پایا ہے- مجتہد نے سعودی عرب کے سرکاری ذرائع کی جانب سے جنوبی افریقہ میں ہیلی کاپٹر بنانے کے ایک کارخانے کے قیام کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کو محض ایک جھوٹ اور فریب قرار دیا اور لکھا کہ درحقیقت اس رپورٹ کو شائع کرنے کا مقصد اس حقیقت کو چھپانا ہے کہ سعودی عرب نے جنوبی افریقہ کے توسط سے اسرائیل سے چار سو ملین ڈالر کے ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ کیا ہے- ہیلی کاپٹر کے الگ الگ پرزے جنوبی افریقہ سے سعودی عرب پہنچائے گئے ہیں اور انھیں اس ملک میں اسمبل کیا جائے گا- سعودی عرب اور صیہونی حکومت نے گذشتہ مہینوں میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر تعاون اور اشتراک عمل انجام دیا ہے- سعودی عرب کے انٹیلیجنس ادارے کے سابق سربراہ ترکی بن فیصل نے ابھی کچھ عرصے قبل واشنگٹن میں اسرائیل کی داخلی سیکورٹی کے سابق مشیر یعقوب عمیدور کے ساتھ باہمی اور علاقائی حالات کے بارے میں گفتگو کی- آل سعود اور صیہونی حکومت کے تعلقات کے نئے پہلو ایسے عالم میں سامنے آرہے ہیں کہ سعودی عرب کے انٹیلیجنس ادارے کے سابق مشیر انورعشقی نے، کہ جن کا کام سعودی اورصیہونی تعلقات سے بتدریج پردہ اٹھانا ہے، عالم اسلام اور دنیائے عرب خاص طور سے ملت فلسطین کے ساتھ آل سعود کی خیانتوں کے تناظر میں حالیہ مہینوں میں مقبوضہ فلسطین اور مختلف ممالک میں صیہونی حکام سے ملاقات اور گفتگو کی ہے- صیہونی حکام کے ساتھ سعودی عرب کے حکام کے حالیہ صلاح و مشورے کا نیا دور ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ آل سعود، ایک عرصے سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور فوجی میدان سمیت مختلف میدانوں میں اشتراک عمل بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے- سعودی عرب جیسے بعض عرب فریق، کہ جو ہمیشہ صیہونی حکومت کے ساتھ ساز باز کرتے رہتے ہیں، عرب ممالک پر اس حکومت کے تسلط کے خطرے کی راہ ہموار کرتے ہیں جس پر علاقے کی رائے عامہ کو شدید اعتراض ہے اور وہ اس مسئلے پر تنقید بھی کرتی رہی ہے- یہ ایسے عالم میں ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کی جانب سے خود کو زیادہ سے زیادہ مسلح کرنے کی کوششیں اور اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی اور آل سعود، علاقے میں خفیہ اور آشکارا شرارتوں اور جنگ کی آگ بھڑکانے کے لحاظ سے سکےّ کے دو رخ ہیں- دہشت گردوں کومختلف طریقوں سے زیادہ سے زیادہ مسلح کرنا بھی اسرائیلی اور سعودی حکام کے ایجنڈے میں شامل ہے- اس سلسلے میں گذشہ ہفتوں کے دوران ایسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی حکام نے شام میں دہشت گردوں کو مسلح کرنے کے لئے ہزاروں کلاشنکوف اور دسیوں لاکھ میگزین کی خریداری کا فرمان جاری کیا ہے اور سی آئی اے کے سربراہ نے بھی ان ہتھیاروں سمیت کرویشیا سے سعودی عرب کے لئے ہتھیاروں کی ایک بڑی کھیپ کی خریداری کی زمین ہموار کردی ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ گذشتہ دنوں سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے درمیان فوجی تعاون کے بارے میں سامنے آنے والے نئے منصوبوں کی خبریں اور رپورٹیں، ان کے درمیان گذشتہ برسوں کے درمیان بڑے پیمانے پر انجام پانے والے تعاون کا صرف ایک ورق ہے- سعودی عرب، اسرائیل اور مغربی حکومتوں کے درمیان فوجی شعبے سمیت مختلف میدانوں میں تعاون کا نتیجہ بھی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر فتنوں اور شرارتوں کے سوا کچھ نہیں ہوا ہے- گذشتہ برسوں میں بدی کے محور یعنی عرب جاسوسی کے ادارے، امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نیز شام میں سعودی عرب کے نام نہاد سیکورٹی ادارے کی ہری جھنڈی اور ہدایت پر داعش دہشت گرد گروہ کو وجود میں لانا اس مذموم ومنحوس تعاون کے جملہ نتائج ہیں-