میانمار کے مسلمانوں کے خلاف تشدد کی نئی لہر
میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کی نئی لہر شروع کرنے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا ہے-
گذشتہ ہفتوں میں بنگلہ دیش سے ملحق سرحدی علاقے کی ایک فوجی چیک پوسٹ پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے نے فوج کو مسلمانوں کو کچلنے کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے مزید کھلی چھوٹ دے دی- رپورٹوں کے مطابق میانمار کی اس فوجی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں کچھ فوجی ہلاک ہو گئے اور یہ مسئلہ باعث بنا کہ میانمار کی فوج سیکڑوں مسلمانوں کو ان کا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دے- میانمار کے سیکورٹی اہلکاروں نے دو روز قبل " کی کان پین" نامی دیہات میں داخل ہو کر دو ہزار مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی ضرورت کی بعض چیزیں لے کر جلد سے جلد اپنا گھر بار چھوڑ دیں- فوجیوں نے مسلمان دیہی باشندوں کو دھمکی دی کہ اگر وہ کم سے کم وقت میں اپنا گھر بار نہیں چھوڑتے ہیں تو انھیں فائرنگ کا نشانہ بنایا جائے گا-
حکومت کے ترجمان مینت کیاؤ نے اس کے جواز میں کہا ہے کہ چونکہ صوبہ راخین کے بعض حصے فوجی آپریشن کی ریڈ لائن میں آتے ہیں اور اس خبر کے صحیح یا غلط ہونے کی تصدیق کے لئے اس دیہات کے باشندوں سے رابطہ قائم کرنے اور اطلاعات حاصل کرنے کا امکان موجود نہیں ہے- سخت سیکورٹی انتظامات کی بناء پر کوئی بھی صحافی اور انسانی حقوق کا کارکن یا نمائندہ اس ریڈ لائن علاقے میں داخل نہیں ہو سکا ہے- جبکہ میانمار کے اس علاقے میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور مظالم کا سلسلہ جاری ہے- میانمار کی حکومت کے، مسلمانوں کو ان کے گھر بار، شہر، دیہات اور ملک سے نکالنے کے اقدام سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ ہفتوں میں راخین میں تشدد میں اضافہ اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے- میانمار کی وزیرخارجہ اور حکومت کی مشیراعلی آنگ سان سوچی نے غیرسفارتی اور غیر انسانی روش اختیار اور مسلمانوں پر جھوٹا الزام لگاتے ہوئے انھیں دہشت گردوں کے لئے رابطہ پل قرار دیا ہے- سانگ سوچی کا دعوی ہے کہ میانمار کی فوج، مسلمانوں سے منسوب چار سو افراد پر مشتمل باغیوں کے ایک گروہ سے جنگ کر رہی ہے کہ جن کا رابطہ بیرون ملک دہشت گردی سے ہے-
ایسی حالت میں کہ جب انسانی حقوق اور سیکورٹی کے ادارے، جو آج کل پورے جنوب مشرقی ایشیاء میں داعش کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، میانمار کے بے سہارا اور دربدر مسلمانوں کے سلسلے میں اس طرح کا نظریہ نہیں رکھتے- گذشتہ چار برسوں میں مسلمانوں کی، بظاہر جمہوری حکومت اور خاص طور آن سانگ سوچی سے صرف یہ درخواست رہی ہے کہ مسلمانوں کو ایک اقلیت کے طور پر تسلیم کریں اور میانمار کے مسلمانوں کے شہری حقوق کو قبول کریں-
میانمار میں امداد رساں اداروں نے اعلان کیا ہے کہ پندرہ ہزار سے زیادہ مسلمان کہ جن میں اکثر کا تعلق روہنگیا نسل سے ہے، اپنے خلاف تشدد کی نئی لہر میں بےگھر ہوچکے ہیں- درایں اثنا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارے نے میانمار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ملک کے مسلمان اکثریت والے علاقے کے عام مسلمان شہریوں کے قتل عام، ان کے دیہاتوں کو نذرآتش کئے جانے۔ ان کی من مانی گرفتاری اورانھیں دربدر کئے جانے کی تحقیق کریں-
میانمار میں اقوام متحدہ کے نمائندے یانگ لی نے اعلان کیا ہے کہ مسلح حملہ آوروں کو پکڑنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ماورائے عدالت قتل عام اور من مانی گرفتاریوں کے بارے میں منظرعام پر آنے والی متعدد رپورٹیں ملی ہیں- اقوام متحدہ کے اس نمائندے نے جنیوا میں ایک بیان میں کہا ہے کہ جو چیز سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے وہ یہ ہے کہ میانمار کے صوبہ راخین کے واقعات کا گہرائی سے جائزہ نہیں لیا جا رہا ہے اور یہ صورت حال زیادہ تکلیف دہ ہے-